کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام کہ کیا زکوٰۃ کی رقم سے کنواں کھدوایا جاسکتا ہے اور مزید یہ کہ اس کو جاری رکھنے کیلئے اس کا خرچہ مثلاً بجلی کا بل ریپئرنگ وغیرہ کا بل بھی زکوٰۃ سے دیا جاسکتا ہے؟ واضح ہو کہ یہ کنواں ذاتی نہیں بلکہ رفاہِ عام کیلئے ہسپتال میں کھدوایا جارہا ہے۔
واضح ہو کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کیلئے کسی مستحق کو اس کا مالک بناکر دینا شرعاً شرط ہے جبکہ کنواں کھدوانے اور اس سے متعلقہ دیگر اُمور میں یہ شرط مفقود ہے اس لئے اس میں زکوٰۃ کی رقم صَرف کرنا جائز نہیں اور اس سے دینے والے کی زکوٰۃ بھی ادا نہیں ہوگی۔
کما فی الدر: ویشترط ان یکون الصرف (تملیکا) لا اباحة کما مر (لا) یصرف (الی بناء) نحو (مسجد) ولا الی کفن میت. الخ (ج۲، ص۳۴۴)
وفی الشامیة: (قولہ نحو مسجد) کبناء القناطر والساقایات واصلاح الطرقات وکری الأنھار والحج کالجھاد وکل ما لا تملیک فیہ. (ج۲، ص۳۴۴)
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0