کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام درج ذیل مسائل کے بارے میں کہ شمالی علاقہ جات خاص طور پر اس کا سرحدی علاقہ دور افتادہ ہونے کی وجہ سے وہاں وسائل مفقود ہیں اس وجہ سے علاقہ میں جہاں غربت کی زیادتی ہے۔ قرآن پاک اور بنیادی دینی تعلیمات سے بھی عوام تقریباً محروم ہے۔ ملک کے رفاہی ادارے بھی زیادہ دور افتادہ علاقہ ہونے کی وجہ سے اپنی امدادی سرگرمیاں نہیں چلا سکتے ان حالات کی بدولت علاقے کے چند نوجوانوں نے انتہائی بے سروسامانی کے باوجود یہ فیصلہ کر لیا کہ علاقہ کا اپنا ایک رفاہی ادارہ ہونا چاہیے جو کہ اپنے عوام کی صحیح دلجوئی کا سبب بن سکے۔ الحمداللہ اپریل ۲۰۰۱ میں ’’ذوالنورین‘‘ اسلامک ویلفیئر ٹرسٹ‘‘ کے نام سے ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا اور دوسال کی قلیل مدت میں الحمداللہ چار نئی مساجد کی تعمیر اور دس دینی مکاتب کا قیام عمل میں آگیا ہے۔ جہاں سات سو سے زیادہ بچے اور بچیاں زیور تعلیم سے آراستہ ہورہی ہیں۔ اب ٹرسٹ کی مستقل کوئی آمدن نہیں ہے بلکہ مخیر حضرات کے صدقات ، زکوٰۃ ، فطرہ، یا چرم قربانی اور عطیات وغیرہ کی مد میں تعاون سے اس کار خیر کو انجام دینے کی کوشش کر رہا ہے، لہٰذا براہ کرم قرآن وسنت کی روشنی میں ہماری یہ رہنمائی فرمائیں کہ ہم مندرجہ بالا مدات سے مساجد و مکاتب کی تعمیر، اساتذہ اور ائمہ کرام کی تنخواہیں وغیرہ کو کس طرح پورا کریں؟ جبکہ ٹرسٹ کو زیادہ امداد زکوٰۃ اور ضروری صدقات ہی کی صورت میں حاصل ہوتی ہے۔ شکریہ
ٹرسٹ کے منتظمین پر لازم ہے کہ مساجد و مکاتب کی تعمیر اور ائمہ و مدرسین کی تنخواہوں کا انتظام صرف صدقات نافلہ اورعطیات سے کیا کریں اور صدقات واجبہ مثلاً زکوٰۃ ، فطرہ اور چرم قربانی وغیرہ کی رقوم ان کے مستحقین تک پہنچانے کا اہتمام کیا کریں۔اور بلاتملیک شرعی مذکور مدات کی رقوم مساجد اور تنخواہوں میں صرف کرنے سے احتراز کریں۔
کما فی الدر المختار: ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه) الخ(2/ 344)
و فیہ ایضاً: (ويتصدق بجلدها أو يعمل منه نحو غربال وجراب) وقربة وسفرة ودلو (أو يبدله بما ينتفع به باقيا) كما مر (لا بمستهلك كخل ولحم ونحوه) كدراهم (فإن) (بيع اللحم أو الجلد به) أي بمستهلك (أو بدراهم) (تصدق بثمنه) (6/ 328)
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0