چیرٹی رائٹ پاکستان کے تحت تین پروگرام پائے جاتے ہیں۔
• اسکول کے بچوں کو کھانا کھلانا۔
• مختلف علاقوں میں راشن کی دوکان کھلوانا ۔
• راشن کارڈ کی فراہمی۔
اسکول کے بچوں کو کھانا کھلانے کی تفصیل:
ہمارا ادارہ اس پروگرام کے تحت دو جگہ اسکول کے بچوں کو کھانا کھلاتا ہے ، ایک "تھر "میں اور ایک کراچی میں ، "تھر "میں کھانا کھلانے کی ترتیب یہ ہے کہ وہاں "تھر "میں ہمارا آفس ہے جو باقاعدہ اشیاءِ خورد ونوش خرید کر باقاعد ہ تیار کرواتے ہیں، جس کی پوری تفصیل ہمارے پاس موجود ہوتی ہے، کہ رقم کا کتنا حصہ راشن وغیرہ پر خرچ ہوا، اس پر مزدوری کتنی آئی اور وہاں ایڈمنسٹریشن کے اخراجات کتنے ہیں؟ اور کھانا تیار ہونے کے بعد مقررہ اوقات میں اسکول میں ہی دستر خوان لگا کر بچوں کو وہیں پر کھانا کھلایا جاتا ہے ،فراہم کردہ منسلکہ رپورٹ کے مطابق اسکول میں کھانا کھانے والے بچوں میں سے ستاون (۵۷) فیصد بچوں کی تعداد مسلمانوں کی ہے ، جبکہ تریالیس(۴۳) فیصد بچے ہندوں ہیں۔
اسی طرح کراچی کے بعض اسکولوں میں بھی ہم بچوں کو کھانا فراہم کرتے ہیں، لیکن اس کی ترتیب "تھر "سے الگ ہے، اور یہاں بعض متعین لوگوں سے بات کر کے وہ فی بندہ کے حساب سے کھانے کی رقم وصول کرتے ہیں، جس میں اشیاء کی قیمت سے لیکر بنانے کی مزدوری اور ڈیلیوری کے اخراجات بھی شامل ہے، جو لنچ بکس کی صورت میں مقرر اوقات پر ان اسکولوں میں پہنچا کر بچوں کے حوالہ کر دیتے ہیں اور بچے اسکول ہی میں اسے کھا لیتے ہیں، ان اسکولوں میں مستحقِ زکوٰۃ بچوں کو داخلہ دیا جاتا ہے، اس لۓ ان میں پڑھنے والے بچوں میں سے تقریباً 95 فیصد بچے مستحقِ زکوٰۃ ہوتے ہیں۔
اس پروگرام پر ہونے والے اخراجات کی پوری رقم ’’ جی ٹی رائٹ ‘‘ کے نام ’’یو کے‘‘ کا ایک ادارہ (مسلم آر گنائزیشن) ہمیں دیتا ہے اور ان کی جانب سے با قاعدہ یہ مصرف متعین ہے، کہ یہ رقم اسکول کے بچوں کو کھانا کھلانے میں صرف کی جائے، اور ان کی فراہم کردہ تفصیل کے مطابق اس رقم میں سے پچاس فیصد رقم زکوٰۃ اور پچاس فیصد رقم صدقات نافلہ کی ہے۔
مختلف علاقوں میں راشن کی دکانوں کی تفصیل:
مختلف علاقوں میں دکان کھولنے کا طریقہ کار یہ ہے، کہ بسا اوقات مخیر حضرات مطلقاً یا کسی متعین علاقے میں دکان کھولنے کے لۓ نفلی صدقات کی رقم دیدیتے ہیں، جس سے پسماندہ یا متوسط مالی استعداد رکھنے والے علاقوں میں راشن کی دکان کھول دی جاتی ہے، جو اس ادارے کی ملکیت ہوتی ہے، جبکہ بعض علاقوں میں ضرورت کے پیش نظر ادارہ خود صدقاتِ نافلہ کی رقم سے راشن کی دکان کھول دیتا ہے، جس میں متوسط طبقہ کے لوگوں کو اشیائے خورد ونوش عام مارکیٹ ریٹ کے مقابلے میں سستے دام فراہم کی جاتی ہیں، جبکہ ان دکانوں کے مینٹیننس (کرایہ، بجلی کے بل اور لیبر کی مزدوری وغیرہ) ادارہ صدقاتِ نافلہ کی رقم سے ادا کرتا ہے۔
راشن کارڈ کی فراہمی کی تفصیل:
ادارہ مختلف ضرورت مند لوگوں کو راشن کارڈ بھی فراہم کرتا ہے، جس کے لۓ خالصتاً زکوٰۃ کی رقم استعمال کی جاتی ہے، اس کا طریقۂ کار یہ ہوتا ہے کہ اگر ادارہ اپنی صوابدید پر یا کسی کے راہ نمائی کرنے پر کسی شخص کو راشن کارڈ فراہم کرتا ہے، تو پہلے ادارے کا نمائندہ متعلقہ شخص کی گھر یلوا خرجات اور مالی وسعت کا پورا چھان بین کرتا ہے، کہ آیا یہ مستحقِ زکوٰۃ ہے یا نہیں ؟ اور مستحقِ زکوٰۃ ہونے پر اس کو راشن کارڈ جاری کیا جاتا ہے، جس میں ماہانہ بنیاد پرادارہ زکوٰۃ کی رقم سے ماہانہ 3150 روپے جمع کرتا ہے، جس کے ذریعہ وہ ادارے کے متعین دکانوں سے راشن خرید سکتا ہے، اس کے علاوہ یہ رقم کیش نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی اس کے ذریعہ کسی اور دکان سے کوئی چیز خریدی جاسکتی ہے، کیونکہ یہ کارڈ عام بینکوں کی کارڈ کی طرح نہیں، بلکہ اس کو ادارے کے سافٹ ویئر کے ساتھ لنک کیا جاتا ہے ، ادارے کے انٹرنل سوفٹ ویئر میں ہی اس کا حساب کتاب جمع ہوتا ہے، یعنی اہلیت کے اعتبار سے یہ رقم اس کارڈ ہولڈر کے نام انٹر کرکے بعد میں مخصوص دکانوں میں اس کارڈ کو سوئپ کرنے پر یہ رقم مائنس ہو جاتی ہے، جبکہ رقم ادارے کے پاس ہی جمع رہتی ہے، اسی طرح بسا اوقات مخیر حضرات زکوٰۃ کی ایک مخصوص رقم دیکر یہ کارڈ جاری کرا دیتے ہیں، اور اپنی صوابدیدپر مستحقِ زکوٰۃ لوگوں میں تقسیم کر دیتے ہیں، لیکن عموماً اس طرح ایک آدھ دفعہ کے لۓ ہوتا ہے۔
اسی طرح ادارے کے نام ایک وقف فنڈ بھی ہے، جو میزان بینک کے المیزان انویسمنٹ فنڈ میں انویسٹ کیا گیا ہے، اس فنڈ کی اصل رقم سے ہم کچھ خرچ نہیں کر سکتے ، البتہ اس سے جو آمدنی ہوتی ہے ، وہ ادارے کے ضروری اخراجات میں ہم خرچ کر رہے ہوتے ہیں اور اس فنڈ سے متعلق یہ تحریر موجود ہے کہ جب بھی یہ ادارہ ختم ہوگا، تو یہ رقم اس طرح کسی دوسرے ادارے کو دیدی جائے گی۔
ا۔ واضح ہو کہ زکوٰۃ کی درستگی کے لۓ دیگر شرائط سمیت ،ادا کنندہ کا ،مسلمان مستحقِ زکوٰۃ شخص کو مالِ زکوٰۃ کا مالک بنانا بھی ضروری ہے، اس لۓ مذکور ادارے کا زکوۃ کی رقم سے ڈرائیور، باور چی کی مزدوری اور ایڈ منسٹریشن کے اخراجات نکالنا ، نیز "تھر "کے سکول میں مسلم اور غیر مسلم بچوں میں بلا تفریق دستر خوان لگا کر فقط کھانا کھلانا اور کراچی میں ادارہ کے زیر سرپرستی واقع سکول میں مستحقین کے ہمراہ غیر مستحقین کو بھی مالِ زکوۃ سے تیار کیے گئے کھانے کے لنچ بکس فراہم کر ناشر عاً درست نہیں ، اور نہ ہی اس طریقۂ کار کے مطابق زکوۃ کی ادائیگی درست ہوگی، البتہ اگر ادارہ ہذا ’’مسلم آرگنائزایشن‘‘سے زکوۃ و صدقاتِ واجبہ اور صدقاتِ نافلہ کی رقم دو الگ الگ مدات میں وصول کرکے صدقات نافلہ کی رقم سے ایڈمینسٹریشن اور دیگر اخراجات کی ادائیگی، اور غیر مسلم اور غیر مستحق افراد کے کھانے کا انتظام کریں، جبکہ مدِّ زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ سے اس کی شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے فقط مسلمان مستحق بچوں کو لنچ بکس میں دیئے گئے کھانے کا مالک بنا کر ان کے لۓ کھانا مہیا کریں تو ایسا کرنے سے ادارہ ہذا کا مقصد بھی پورا ہو جائیگا اور زکوٰۃ دینے والوں کی زکوۃ بھی درست ادا ہو گی۔
۲۔ مختلف پسماندہ علاقوں میں دکان کھولنے کے لۓ ادارے یا کسی فرد کی جانب سے فراہم کردہ رقم وقف کی ملکیت ہے اور اس میں ادارہ کے طے شدہ ضابطے کے مطابق عمل کر کے غریب و متوسط افراد کو کم قیمت پر راشن فراہم کرنا نہ صرف جائز بلکہ ایک مستحسن اور باعثِ اجر و ثواب عمل ہے۔
۳۔ راشن کارڈ کے اجراء کی مذ کورہ بالا تفصیل کے مطابق چونکہ کارڈ ہولڈر کو اس کے پیچھے موجود رقم پر ملک تام اور مکمل تصرف کا اختیار نہیں ہوتا، بلکہ وہ مذکور ادارہ کی دکان سے مخصوص راشن لینے کا پابند ہوتا ہے، اور وہ رقم نکالنے یا کسی دوسری جگہ سے راشن لینے کا اختیار نہیں رکھتا ، اس لۓ کارڈ کے اجراء سے زکوۃ ادا کرنے والوں کی زکوۃ ادا نہ ہو گی، چنانچہ فقط کارڈ کے اجراء سے ادارہ کے لۓ مذکور رقم کارڈ ہولڈر کے اکاؤنٹ سے زکوۃ کی مد میں منہا ( ڈیڈ کٹ) کر نادرست نہ ہوگا، البتہ کارڈ ہولڈر جب کبھی کارڈ سویپ کر کے راشن وصول کرےگا،اس وقت راشن کی مالیت کے بقدر زکوۃ دینے والوں کی زکوٰۃ ادا ہو جائیگی اور ادارہ کے لۓ اتنی مقدار میں کارڈ ہولڈر کے کاؤنٹ سے زکوۃ کی رقم منہا ( ڈیڈکٹ) کرنا درست ہو گا، تا ہم اس صورت میں چونکہ زکوٰۃ دینے والوں کی زکوۃ کی ادائیگی میں تاخیر کا قوی امکان ہے، اس لۓ اگر ادارہ کے لۓ زکوۃ کی مد سے بلاواسطہ مستحقین کو راشن کی فراہمی ممکن ہو تو اس پر عمل کرے، وگرنہ ایسے عام کارڈ کا اجراء کرے جو مستحقین کے اکاؤنٹ سے منسلک ہو اور مستحقین اسے اپنی مرضی و آزادی سے تصرف میں لا سکتے ہوں، چنانچہ اس دوسری صورت میں مستحقِ زکوٰۃ شخص کے اکاونٹ میں رقم منتقل کرنے سے زکوۃ دینے والوں کی زکوٰۃ ادا ہو جائیگی۔
كما في الدر المختار: ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه) اھ (2/ 344)۔
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله: تمليكا) فلا يكفي فيها الإطعام إلا بطريق التمليك ولو أطعمه عنده ناويا الزكاة لا تكفي ط وفي التمليك إشارة إلى أنه لا يصرف إلى مجنون وصبي غير مراهق إلا إذا قبض لهما من يجوز له قبضه كالأب والوصي وغيرهما ويصرف إلى مراهق يعقل الأخذ كما في المحيط قهستاني وتقدم تمام الكلام على ذلك أول الزكاة اھ (2/ 344)۔
وفی الدر المختار: (ولا) تدفع (إلى ذمي) لحديث معاذ (وجاز) دفع (غيرها وغير العشر) والخراج (إليه) أي الذمي ولو واجبا كنذر وكفارة وفطرة اھ (2/ 351)۔
وفي حاشية ابن عابدين: فيها ومصرفه مصالح المسلمين كما مر ولذا لم يستثن في الكنز والهداية إلا الزكاة اھ(2/ 352)۔
وفی الفتاوى الهندية: وأما أهل الذمة فلا يجوز صرف الزكاة إليهم بالاتفاق ويجوز صرف صدقة التطوع إليهم بالاتفاق، واختلفوا في صدقة الفطر والنذور والكفارات قال أبو حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى - يجوز إلا أن فقراء المسلمين أحب إلينا كذا في شرح الطحاوي. (إلی قوله) ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه اھ (1/ 188)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما ركن الزكاة فركن الزكاة هو إخراج جزء من النصاب إلى الله تعالى، وتسليم ذلك إليه يقطع المالك يده عنه بتمليكه من الفقير وتسليمه إليه أو إلى يد من هو نائب عنه وهو المصدق والملك للفقير يثبت من الله تعالى وصاحب المال نائب عن الله تعالى في التمليك والتسليم إلى الفقير اھ (۴/۲)۔
وفی فتاویٰ قاضی خان: وإن أراد القیم أن یبنی فی الأرض الموقوفة قریة لأکرتها وحفاظها لیجمع فیها الغلة کان له أن یفعل ذلك، وکذا لو کان الوقف خاناً علی الفقراء واحتاج إلی خادم یکسح الخان ویقوم بفتح بابه وسده فسلم بعض البیوت إلی رجل أجرة له لیقوم بذلك کان له ذلك اھ (۳/ ۱۶۹)۔
وفی فقه البیوع: وقدمنا فی مباحث ایفاء الثمن أن البنک المصدر للشیک المصرفی یحجز مبلغه المستفید فیکون وکیلا عنه فی القبض فیتحقق القبض عن طریق الوکیل اھ (۲/ ۷۵۰)۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0