بسمﷲ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم ورحمۃﷲ وبرکاتہ، عرض گزارش یہ ہے کہ دو تین افراد ایک گاؤں میں دینی مکتب شروع کرنا چاہتے ہیں اُس گاؤں اور اُس کے اطراف میں کوئی مدرسہ یا مکتب کا نظم نہیں ہے اوربے دینی بہت ہے تو اِس گاؤں کے دو تین افراد مل کر مکتب شروع کر رہے ہیں تو ظاہر ہے اُس میں ایک مُعلم کی ضروت پیش آئیگی تواِن حضرات نے ایک معلم رکھا جسکا ہدیہ دس ہزار مقرر ہوا ہے جو یہ دو تین افراد مل کر دیں گے اُس میں ایک شخص نے کہا کہ میرے پاس زکوٰۃ کے پیسے ہیں اگر یہ پیسے مکتب کے معلم کو دینا جائز ہوتو میں پانچ ہزار ہر ماہ دونگا، تو کیا شرعی طور پر یہ شخص مکتب کے معلم کو زکوٰۃ کے پیسے دے سکتا ہے؟ فقط والسلام
سائل: محمد عثمان خان (الھند)
واضح ہو کہ ادائیگی زکوۃ کی صحت کے لیے ضروری ہے، کہ زکوۃ کی رقم مستحق زکوۃ، غیرسید شخص کو بلاعوض دیکر مالک وقابض بنادیاجائے، جبکہ کسی معلم کی تنخواہ اس کی محنت کا عوض اور صلہ ہے، جو اس کا واجبی حق ہے، اس لیے کسی استاد یا ملازم کو اس کی اجرت کے بدلہ زکوۃ کی رقم دینا جائز نہیں، ورنہ دینے والے کی زکوۃ شرعا ادا نہ ہوگی۔
فی ردالمحتار علی الدر: (2/356)
"ولو دفعها المعلم لخلیفته إن کان بحیث یعمل له لو لم یعطه صح، و إلا لا.
(قوله: وإلا لا )؛ لأن المدفوع یکون بمنزلة العوض".
وفی الفتاویٰ الهندیة: ( 1/170 )
"فهي تملیك المال من فقیر مسلم ... بشرط قطع المنفعة عن المملك من کل وجه".
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0