اگر ایک آدمی زمین کسی دوسرے شخص کو کچھ رقم کے عوض دے کہ بعد میں وہ پیسے واپس کرکے اپنی زمین اس سے لے لے۔ ہمارے ہاں اسے رہن یا گروی زمین کہتےہیں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اصل مالک غریب ہوتا ہے اور عمر بھر بھی وہ اپنی زمین واپس نہیں کرسکتا ہے لہذا جس کے ہا گروی رکھی ہے وہ ساری عمر یہ زمین کھاتا پیتا ہے ۔۔۔ شریعت کی رو سے رہنمائی فرمائیں شکریہ
قرض کے بدلہ میں بطور رہن کسی کی زمین اپنے پاس رکھناشرعاجائز اور د رست ہے؛ تاکہ اگر قرض دار قرض نہ ادا کرسکے تو اس زمین کو فروخت کرکے وصولی قرض کا انتظام کیا جاسکے۔لیکن رہن میں رکھی جانے والی چیز کی حیثیت محض ضمانت کی ہوتی ہے، اور رہن میں رکھے جانے کے بعد بھی رہن (گروی) رکھی ہوئی چیز اس کے اصل مالک کی ہی ملک رہتی ہے، البتہ قبضہ مرتہن (جس کے پاس گروی رکھی ہوئی ہے) کا ہوتا ہے۔ نیز اس میں پیدا ہونے والی زیادتی (پیداوار)بھی اصل مالک ہی کی ملک قرار پاتی ہے۔ اس لیے مرتہن کا گروی پر رکھی ہوئی زمین سے استفاد کرنا شرعاجائز نہیں اس سے احتراز لازم ہے۔اور مقروض شخص کو بھی چاہیے کہ وہ مقررہ وقت پر قرض کی واپسی کا اہتمام کرے، تاکہ مرتہن اس غیرشرعی عمل کے ارتکاب سے محفوظ رہ سکے۔
کمافی الفتاوی الشامیۃ:
"وفي الخلاصة القرض بالشرط حرام والشرط لغو بأن يقرض على أن يكتب به إلى بلد كذا ليوفي دينه. وفي الأشباه: كل قرض جر نفعاً حرام؛ فكره للمرتهن سكنى الموهونة بإذن الراهن". (5/166)
وفیه أیضاً:
"اَلرَهنُ هو حَبسُ شيءٍ مالیٍ بِحَقٍ یُمکِنُ اِستِیفائُه مِنه کَالْدَّینِ". (درمختار ج۵/ ص۳۰)