طواف زیارہ میں اگر طواف کے چکروں کی گنتی بھول گیا تو کیا حکم ہے۔
اگر فرض یا واجب طواف کے دوران چکروں کی گنتی میں شک ہوجائے اور صحیح تعداد یاد نہ ہرے، تو طواف دوبارہ شروع سے کرنا چاہیے، اور اگر یہ طوافِ سنت نفل ہو تو غالب گمان پر بنا کرکے طواف مکمل کرنا درست ہے، جبکہ طواف زیارت چونکہ حج کا رکن ہے اس لیے اس کے چکروں کی تعداد بھول جانے کی صورت میں اس کا اعادہ کرکے مکمل کرنا ضروری ہے۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 496)
'' لو شك في عدد الأشواط في طواف الركن أعاده، ولا يبني على غالب ظنه، بخلاف الصلاة ۔۔۔ أنه لو شك في أشواط غير الركن لا يعيده بل يبني على غلبة ظنه ؛ لأن غير الفرض على التوسعة، والظاهر أن الواجب في حكم الركن ؛ لأنه فرض عملي اھ