مباحات

نیا گھر بناتے وقت قرآن خوانی کرنے اور کھانا کھلانے کا حکم

فتوی نمبر :
5682
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

نیا گھر بناتے وقت قرآن خوانی کرنے اور کھانا کھلانے کا حکم

کیا نیا گھر، نیا آفس اور دوسرے معاملات پر قرآن خوانی اور پھر کھانا کھلانا جائز ہے؟ شریعت میں اس کا کیا حل ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

نیا گھر، آفس کھولنے کی صورت میں جو قرآن خوانی ہوتی ہے، اس سے مقصود محض تبرک ہوتا ہے، جو بحکم رقیہ ہے، اس لئے اس کا اہتمام کرنے اور اس کے بعد کھانا کھلانے کی شرعاً گنجائش ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الفقہ الاسلامی: اختلف العلماء فی وصول ثواب العبارات البدنیة المحضة کالصلاۃ والتلاوۃ القرآن الیٰ قولہ لان محل القراءۃ تنزل فیہ والبرکةوالدعاء عقبھا ارجیٰ للقبول اھ (2/ 551)۔
وفی رد المحتار: لان المتقدمین الستئجار مطلقاً جوزوا الرقیة بالاجرہ ولو بالقران کما ذکرہ الطحاوی لانھا لیست عبادۃ محضة بل من التداوی اھ (6/ 57)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اعجاز امتیاز بخش عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 5682کی تصدیق کریں
0     1046
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات