کیا نیا گھر، نیا آفس اور دوسرے معاملات پر قرآن خوانی اور پھر کھانا کھلانا جائز ہے؟ شریعت میں اس کا کیا حل ہے؟
نیا گھر، آفس کھولنے کی صورت میں جو قرآن خوانی ہوتی ہے، اس سے مقصود محض تبرک ہوتا ہے، جو بحکم رقیہ ہے، اس لئے اس کا اہتمام کرنے اور اس کے بعد کھانا کھلانے کی شرعاً گنجائش ہے۔
کما فی الفقہ الاسلامی: اختلف العلماء فی وصول ثواب العبارات البدنیة المحضة کالصلاۃ والتلاوۃ القرآن الیٰ قولہ لان محل القراءۃ تنزل فیہ والبرکةوالدعاء عقبھا ارجیٰ للقبول اھ (2/ 551)۔
وفی رد المحتار: لان المتقدمین الستئجار مطلقاً جوزوا الرقیة بالاجرہ ولو بالقران کما ذکرہ الطحاوی لانھا لیست عبادۃ محضة بل من التداوی اھ (6/ 57)۔