اجارہ(کرایہ): اسلم نے گھر کرایہ پر دیا عثمان کو ایک سال کیلئے 5 لاکھ روپے میں۔ جب سال گزرا تو اسلم نے گھر واپس لے لیا عثمان سے اور ساتھ ساتھ 5 لاکھ روپے بھی دئے عثمان کو۔ کیا دونوں فریقین کیلیے ایسا عمل جائز ھے یا نہیں؟ راہنمائی کیجیے
صورت مسئولہ میں اگرفریقین اسلم اور عثمان کے درمیان مذکورمکان کا ایک سال کے لیے مبلغ پانچ لاکھ روپے کرایہ کے عوض باقاعدہ کراداری کا معاملہ ہوچکاتھا، تو اب سال پورا ہونے پر مالک مسمی اسلم کا گھرواپس لینے پر کرایہ دارمسمی عثمان کو کرایہ کی رقم مبلغ پانچ لاکھ روپے دینے کی کوئی شرعی جواز نہیں بنتی۔ تاہم اگر یہ اجارے کا معاملہ نہ ہو بلکہ مالک مکان مسمی اسلم نے وقتی ضرورت کے لیے مسمی عثمان سے پانچ لاکھ روپے بطورقرض لیے ہو، اور اس کے بدلے اپنا مکان ایک سال کے لیے اس کے استعمال میں دیدیاہو، تو اس مکان کی حیثیت رہن (گروی) تھی اور محمد عثمان کے لیے اس مکان میں رہائش اختیار کرکے یا کسی دوسرے شخص کو کرایہ پر دیکر اس نفع حاصل کرنا شرعاجائز نہیں تھا بلکہ قرض کے بدلے نفع حاصل کرنے کی وجہ سے شرعاسودی معاملہ تھا، جس پر فریقین کو توبہ و استغفار اور آئندہ اس طرح کے غیر شرعی معاملات سے اجتناب لازم ہے۔
النتف في الفتاوی:
الربا في القروض: فأما في القروض فهو علی وجهین:أحدهما أن یقرض عشرة دراهم بأحد عشر درهماً أو باثني عشر ونحوها. والآخر أن یجر إلی نفسه منفعةً بذلک القرض، أو تجر إلیه وهو أن یبیعه المستقرض شيئا بأرخص مما یباع أو یوٴجره أو یهبه…، ولو لم یکن سبب ذلك (هذا ) القرض لما کان (ذلك) الفعل، فإن ذلك رباً، وعلی ذلک قول إبراهیم النخعي: کل دین جر منفعةً لا خیر فیه.‘‘( ص: 484 ، 485)
حاشية رد المحتار على الدر المختار (5/ 166):
’’ لا يحل له أن ينتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن؛ لأنه أذن له في الربا؛ لأنه يستوفي دينه كاملاً فتبقى له المنفعة فضلاً؛ فتكون رباً، وهذا أمر عظيم،قلت: وهذا مخالف لعامة المعتبرات من أنه يحل بالإذن إلا أن يحمل على الديانة وما في المعتبرات على الحكم.ثم رأيت في جواهر الفتاوى: إذا كان مشروطاً صار قرضاً فيه منفعة وهو رباً، وإلا فلا بأس به ا هـ ما في المنح ملخصاً ‘‘.
’’ وَالْغالِبُ مِنْ اَحْوَالِ النَّاسِ اَنَّهَمْ اِنَّمَا یُرِیْدُونَ عِنْدَ الْدَفْعِ اَلاِنْتِفَاعَ وَلَولَاه لَمَا اَعْطَاه الْدَّرَاهمَ وَهذا بِمَنْزِلَةِ الْشَرْطِ؛ لِأَنَّ الْمَعْرُوفَ کَالْمَشْرُوطِ وَهوَ یُعِیْنُ الْمَنْعَ‘‘ اھ