السلام علیکم! حضور ﷺ کو معراج جسمانی ہوئی تھی یا روحانی؟ اس بارے میں قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
قرآن مجید کے ارشادات اور احادیث متواترہ سے ثابت ہے کہ اسراء و معراج کا تمام سفر صرف روحانی نہیں تھا،بلکہ جسمانی تھا جیسے عام انسان سفر کرتے ہیں ،قرآن کریم کے پہلے ہی لفظ سبحان میں اس طرف اشارہ موجود ہے، کیونکہ یہ لفظ تعجب اور کسی عظیم الشان امر کے لیے استعمال ہوتا ہے، اگر معراج صرف روحانی بطور خواب کے ہوتی ،تو اس میں کو نسی عجیب بات ہے خواب تو ہر مسلمان بلکہ ہر انسان دیکھ سکتا ہے کہ میں آسمان پر گیا فلاں فلاں کام کیے۔
دوسرا اشارہ لفظ عبد سے بھی اسی طرف ہے ،کیونکہ عبد صرف روح نہیں، بلکہ جسم و روح کے مجموعہ کا نام ہے اس کے علاوہ واقعہ معراج آنحضرت ﷺ نے حضرت ام ہانی کو بتلایا تو انہوں نے حضور کو یہ مشورہ دیا کہ آپ اس کا کسی سے ذکر نہ کریں ،ورنہ لوگ اور زیادہ تکذیب کریں گے اگر معاملہ خواب کا ہوتا تو اس میں تکذیب کی کیا بات تھی۔
پھر جب آنحضرت ﷺ نے لوگوں پر اس کا اظہار کیا، تو کفار مکہ نے تکذیب کی اور مذاق اڑایا ،یہاں تک کہ بعض نو مسلم اس خبر کو سن کر مرتد ہو گئے، اگر معاملہ خواب کا ہوتا تو ان معاملات کا کیا امکان تھا۔ پس ان امور سے بخوبی واضح ہو گیا کہ واقعہ معراج محض روحانی نہیں، بلکہ روح و جسم دونوں کے ساتھ ہوا تھا۔