اَدب و تعظیمِ نبی ﷺ

عصمتِ انبیاء کا مطلب و مفہوم

فتوی نمبر :
59946
| تاریخ :
2008-02-14
آداب / شعائر اسلام / اَدب و تعظیمِ نبی ﷺ

عصمتِ انبیاء کا مطلب و مفہوم

محترم مفتی صاحب !السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
بعد ازیں چند روز قبل میں نے عصمتِ انبیاء کے متعلق ایک سوال کیا تھا کہ عصمتِ انبیاء کا کیا مطلب ہے ؟ اس کا یہ مطلب ہے کہ انبیاء سے گناہ کا صدور ہو ہی نہیں سکتا، تو پھر حضرت آدم علیہ السلام کا ممنوعہ درخت کھانا اور حضرت نوح علیہ السلام کا اپنے بیٹے سے متعلق سوال کرنا اور یونس علیہ السلام کا قوم کو چھوڑنا کس بنا پر ہوا؟اور اگر عصمتِ انبیاء کا یہ مطلب ہے کہ انبیاء سے ارادۃً ایسا فعل نہیں ہوتا جو رضاءِالٰہی کے خلاف ہو تو اس صورت میں کوئی اشکال نہیں، براہِ کرم باحوالہ بتلائیں کہ اس سلسلہ میں ہمارا تفصیلی ایمان کیا ہے؟نیز ایسے افعال کی تاویل بھی بیان فرمائیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

عصمتِ انبیاء ، متفقہ و اجماعی مسئلہ ہے اور محققین کے نزدیک حضرات انبیاء علیہم السلام صغائر اور کبائر دونوں سے پاک ہوتے ہیں اور بعض ایسے امور جن کے بارے میں انبیاءعلیہم السلام پر کچھ عتاب فرمایا گیا یا حق سبحانہ وتعالیٰ کی جانب سے ان کی ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا گیا ،ایسے امور کو اصطلاحی الفاظ میں’’زلّۃ‘‘ یا ’’ خطاءِ اجتہادی‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے، ان امور کا صدور حضرات انبیاء علیہم السلام سے ممکن ہے، بلکہ واقع ہے’’زلّۃ ‘‘کی تعریف یہ ہے کہ وہ (فی حد ذاتہ ) گناہ نہیں ہوتا، بلکہ فی نفسہ جائز امر ہوتا ہے، اور اس کا مقابل فعل بھی جائز ہوتا ہے ،دونوں میں فرق افضل اور غیر افضل کا ہوتاہے، یعنی خوب اور بہت خوب کا ہوتا ہے ،نبی اگر ثانی الذکر کو چھوڑ کر’’خوب‘‘ پر عمل کرلیتا ہے تو اس کے مقامِ رفیع کے اعتبار اس طرزِ عمل کو ’’زلّۃ‘‘ یا لغزش سے تعبیر کرتے ہیں، تنبیہ خداوندی متوجہ ہو جاتی ہے، حالانکہ عوام کے اعتبار سے یہ کوئی قابلِ تنبیہ عمل نہیں ہوتا ، بلکہ یہ نیکی ہوتی ہے "کما قیل حسنات الابرار سیئات المقربین" اور ہمارے باہمی تعلقات میں اس کی نظیر یں مل سکتی ہیں اور خطاءِ اجتہادی کی حقیقت یہ ہے کہ نبی نے ایک عمل کو عین منشاءِ خداوندی سمجھتے ہوئے کیا، بعد میں آپ کو متنبہ فرما دیا گیا کہ ہمارا وہ منشاء نہیں، بلکہ یہ تھا، جیسا کہ آنحضرت ﷺنے حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو طرزِ عمل فرمایا تھا، آپﷺ کے خیال مبارک میں وہ عین مصلحت کے مطابق تھا ،لیکن حق جلّ شانہ کی جانب سے واضح فرما دیا کہ ہمارا منشاء یہ تھا،مگر چونکہ انبیاء علیہم السلام سے اگر کبھی ایسی خطاءِ اجتہادی کا صدور ہوتا ہے تو فوراً اس کی اصلاح فرمادی جاتی ہے، ایسی خطاء پر باقی نہیں رہنے دیا جاتا اورخطاءِ اجتہادی میں غیر نبی، یعنی مجتہد پر بھی مواخذہ نہیں اور اسے مجتہد کا گناہ نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اسے ثواب ملتا ہے اور گناہ و معصیت یہ ہے کہ جان بوجھ کر صریح حکمِ خداوندی کی مخالفت کی جائے ۔

مأخَذُ الفَتوی

فی تفسير البغوي: "واختلف العلماء في هذا الباب هل وقع من الأنبياءِ -صلوات الله عليهم أجمعين- صغائر من الذنوب يؤاخذون بها ويعاتبون عليها أم لا؟ وقال جمهور من الفقهاء من أصحاب مالك وأبي حنيفة والشافعي: إنهم معصومون من الصغائر كلها كعصمتهم من الكبائر أجمعها، لأنا أمرنا باتباعهم في أفعالهم وآثارهم وسيرهم أمرًا مطلقًا من غير التزام قرينة، فلو جوزنا عليهم الصغائر لم يمكن الاقتداء بهم، إذ ليس كل فعل من أفعالهم يتميز مقصده من القربة والإباحة أو الحظر أو المعصية، ولا يصح أن يؤمر المرء بامتثال أمر لعله معصية، لاسيما على من يرى تقديم الفعل على القول إذا تعارضا من الأصوليين. قال الأستاذ أبو إسحاق الإسفراييني: واختلفوا في الصغائر، والذي عليه الأكثر أن ذلك غير جائز عليهم، وصار بعضهم إلى تجويزها، ولا أصل لهذه المقالة. وقال بعض المتأخرين ممن ذهب إلى القول الأول: الذي ينبغي أن يقال: إن الله تعالى قد أخبر بوقوع ذنوب من بعضهم ونسبها إليهم وعاتبهم عليها، وأخبروا بها عن نفوسهم وتنصلوا منها وأشفقوا منها وتابوا، وكل ذلك ورد في مواضع كثيرة لا يقبل التأويل جملتها وإن قبل ذلك آحادها، وكل ذلك مما لا يزري بمناصبهم، وإنما تلك الأمور التي وقعت منهم على جهة الندور وعلى جهة الخطأ والنسيان، أو تأويل دعا إلى ذلك فهي بالنسبة إلى غيرهم حسنات وفي حقهم سيئات بالنسبة إلى مناصبهم وعلو أقدارهم إذ قد يؤاخذ الوزير بما يثاب عليه السائس، فأشفقوا من ذلك في موقف القيامة مع علمهم بالأمن والأمان والسلامة. قال: وهذا هو الحق. ولقد أحسن الجنيد حيث قال: حسنات الأبرار سيئات المقربين. منهم- صلوات الله وسلامه عليهم- وإن كان قد شهدت النصوص بوقوع ذنوب منهم فلم يخل ذلك بمناصبهم ولا قدح في رتبهم، بل قد تلافاهم واجتباهم وهداهم ومدحهم وزكاهم واختارهم واصطفاهم، صلوات الله عليهم وسلامه.(7/ 297)۔
وفی تفسير ابن كثير: قلت: أما الأنبياء، عليهم السلام، فكلهم معصومون مؤيدون من الله عز وجل. وهذا مما لا خلاف فيه بين العلماء المحققين من السلف والخلف، وأما من سواهم فقد ثبت في صحيح البخاري، عن عمرو بن العاص أنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إذا اجتهد الحاكم فأصاب فله أجران وإذا اجتهد فأخطأ فله أجر" اھ(5/ 26)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59946کی تصدیق کریں
0     1334
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • اللہ رب العزت اورنبی کریم ﷺ کے لئے عشق کا لفظ استعمال کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   اَدب و تعظیمِ نبی ﷺ 0
  • ٹی وی پر براہِ راست روضہ مبارک دیکھتے ہوئے سلام پیش کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   اَدب و تعظیمِ نبی ﷺ 0
  • انبیاءِ کرام کے بنائے جانے والے گستاخانہ خاکوں سے متعلق احکامات

    یونیکوڈ   اَدب و تعظیمِ نبی ﷺ 0
  • تبرکاتِ نبویؐ کی تصاویر کے احترام کا حکم

    یونیکوڈ   اَدب و تعظیمِ نبی ﷺ 0
  • آپ ﷺ کی حیات ، دنیوی حیات کی طرح بلکہ اس سے بھی ارفع و اقوی ہے

    یونیکوڈ   اَدب و تعظیمِ نبی ﷺ 0
  • عصمتِ انبیاء کا مطلب و مفہوم

    یونیکوڈ   اَدب و تعظیمِ نبی ﷺ 0
  • فلموں میں حضرات انبیاءکرام وصحابہ کرام کا کردار ادا کرنا، اور اُن کی خرید وفروخت کا حکم

    یونیکوڈ   اَدب و تعظیمِ نبی ﷺ 0
  • مخصوص درود پڑھنے کا حکم

    یونیکوڈ   اَدب و تعظیمِ نبی ﷺ 0
  • درود وسلام پڑھتے وقت حضورﷺ کے نام مبارک کے ساتھ لفظ ’’سیدنا‘‘ کا اضافہ کرنا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   اَدب و تعظیمِ نبی ﷺ 0
  • آپ ﷺ کے نام مبارک کی انگلش صحیح اسپیلنگ کیا ہے ؟

    یونیکوڈ   اَدب و تعظیمِ نبی ﷺ 0
  • نبی کریم ﷺ کے بارے میں گستاخانہ نظریات رکھنا

    یونیکوڈ   اَدب و تعظیمِ نبی ﷺ 0
  • درود شریف پر نعلین مبارک کا خاکہ لگانا

    یونیکوڈ   اَدب و تعظیمِ نبی ﷺ 0
  • نبی ﷺ کو کالی کملی والا کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   اَدب و تعظیمِ نبی ﷺ 0
  • کس صحابی کا چہرہ نبی ﷺ سے مشابہ تھا؟

    یونیکوڈ   انگلش   اَدب و تعظیمِ نبی ﷺ 0
Related Topics متعلقه موضوعات