میرا نکاح دوسال قبل پاکستان میں ہوا تھا، اور میرے خاوند امریکہ میں مقیم ہیں، نکاح کے بعد معلوم ہوا کہ میرے میاں حرام کام کرتے ہیں، جیسے : شراب پینا اور ناجائز تعلقات وغیرہ، اور ان باتوں کو برا بھی نہیں سمجھتے، اور ایک نرس جوکہ شادی شدہ اس کے ساتھ میرے میاں کے ناجائز تعلقات ہیں، اس عورت کے کہنے پر مجھے ہر طرح سے ذلیل کیا، اس عورت کے کہنے پر نہ مجھے امریکہ بلانا چاہتے تھے، بلکہ کہنے کے باوجود میرے گرین کارڈ کے کاغذات دوسال مؤخر کرادئیے، اس عورت کو پیسے بھی بھیجتے ہیں، شاید ملتے بھی ہوں گے( واللہ اعلم) میں نے ان کو ایک مرتبہ کہا کہ آپﷺ کی رحمت سے مجھے آپ کے اس عورت کے ساتھ ناجائز تعلقات کا پتہ چلا، اور مدینہ میں رہنے والوں پر اللہ کی رحمت ہوتی ہے، ایک مرتبہ میرے میاں نے مجھ سے ناراضگی میں یا ویسے ہیں کہا کہ گنبد خضراء کے نیچے جو صاحب سوئے ہوئے ہیں، اور میرے متعلق جو آپ کو خبر دیتے ہیں، ان کو لاؤ( العیاذ باللہ) اور کہنے لگے قرآن پاک میں تو صرف " لا الہ الا اللہ" آیا ہے " محمد الرسول اللہ" نہیں آیا، میں نے انکو بتایا کہ سورۃ الفتح میں آیا ہے، پھر کہنے لگے کہ آپ ﷺ اپنے چچا کو کیوں مسلمان نہ کر سکے؟
سائلہ کا بیان اگر مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور مبالغہ آرائی سے کام نہ لیا گیا ہو، تو سائلہ کے شوہر کے مذکور الفاظ انتہائی خطرناک اور گمراہ کن ہیں، جو ایک مسلمان کی شان کے خلاف ہیں، اس پر لازم ہے کہ اپنے عقیدہ و اعمال کی درستگی کے ساتھ اپنی ان ناپسندیدہ باتوں پر بصدق دل توبہ واستغفار کرے، اور آئندہ اس طرح کی باتوں سے احتراز بھی کرے، تاہم اگر سائلہ کا شوہر سمجھانے کے باوجود اپنے مذکور طرز عمل سے باز نہ آئے تو سائلہ کا اس سے طلاق بالمال یا خلع لیکر اس کے نکاح کے بندھن سے آزادی حاصل کرنا بھی درست ہوگا۔
کما فی احکام القرآن للجصاص: قوله تعالى: {فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به} لفظ محتمل لمعان والاجتهاد سائغ فيه (الی قولہ) وإنما قال أصحابنا إذا خلعها على أكثر مما أعطاها، أو خلعها على مال والنشوز من قبله إن ذلك جائز في الحكم وإن لم يسعه فيما بينه وبين الله تعالى من قبل أنها أعطته بطيبة من نفسها غير مجبرة عليه، وقد قال النبي صلى الله عليه وسلم: "لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيبة من نفسه" الخ (ج1 صـ477 ، ط: دار الکتب العلمیۃ)۔
واللہ اعلم بالصواب