السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا زکوٰۃ مساجد اور مدارس کو دی جاسکتی ہے؟ جبکہ چندے والے حضرات مدارس کے لیے بھی زکوٰۃ دینے کا کہتے ہیں، جناب وضاحت کریں۔
واضح ہوکہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے ضروری ہے کہ زکوٰۃ کے مال کا کسی مستحق کو مالک وقابض بنایا جائے، لہذا زکوٰۃ کی رقم بغیر تملیک کے براہ راست مساجد ومدارس میں خرچ کرنے سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی، البتہ جن مدارس میں رہائشی طلبہ ہوں، اور انتظامیہ مدرسہ ،زکوٰۃ کی رقم کے لیے تملیک شرعی کا اہتمام کرتی ہو، یا زکوٰۃ کی رقم طلباء کو دی جاتی ہو، تو ایسے مدارس کو زکوٰۃ کی رقم دینے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔
قال اللہ تعالی: وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ (سورۃ البقرۃ ایة 43)۔
وفی بدائع الصنائع: فركن الزكاة هو إخراج جزء من النصاب ( الی قولہ) وعلى هذا يخرج صرف الزكاة إلى وجوه البر من بناء المساجد، والرباطات الخ (2/32)۔
وفی الاشباہ لابن نجیم رحمہ اللہ تعالی: والحیلة فی التکفین بھا التصدق بھا علی فقیر ثم ھو یکفن فیکون الثواب لھما وکذا فی تعمیر المساجد الخ( 351)۔
رفاہی ادارہ "چیرٹی رائٹ آف پاکستان" میں رقمِ زکوۃ کے استعمال کی مختلف صورتوں کے احکام
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 1