میں نے اپنی ماہانہ آمدنی میں ایک حصہ فی سبیل اللہ مخصوص کررکھا ہے،میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ رقم اپنے عزیز رشتہ داروں کو تحائف دینے کے لیے استعمال ہوسکتی ہے؟
سائل کی مراد فی سبیل اللہ مخصوص کرنے سے اگر کچھ مخصوص رقم ثواب کی خاطر کسی کو دینا ہو تو سائل کا مذکور رقم رشتہ داروں کو ھدیہ وتحائف کے نام پر دینا بھی جائز ہے۔
کمافی موطأ مالك ت عبد الباقي: عن عطاء بن أبي مسلم عبد الله الخراساني قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «تصافحوا يذهب الغل، وتهادوا تحابوا، وتذهب الشحناء»(2/ 908)۔
وفی الدر المختار: (وصلة الرحم واجبة ولو) كانت (بسلام وتحية وهدية) الخ(6/ 411)۔
وفیہ أیضاً: (أو وهبها لفقيرين صح) لأن الهبة للفقير صدقة، والصدقة يراد بها وجه الله - تعالى، وهو واحد فلا شيوع (لا لغنيين) لأن الصدقة على الغني هبة الخ(5/ 698)۔