استخارہ کے بارے میں کچھ معلومات دیں کہ آیا یہ احادیث سے ثابت ہے کہ نہیں اور کن معاملات میں کرنا چاہیے؟ اس کا طریقہ بھی بتا دیں اور کس دن کرنا چاہیے اور اس میں حرج تو نہیں اگر خواب دیکھے پھر کسی کو خواب بتایا جائے کہ نہیں؟ کس طرح کرنا چاہیے؟
استخارہ احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے اور یہ کسی اہم امر کے متعلق جب تردد ہو تو کیا جاتا ہے، جیسے نکاح، سفر اور تجارت وغیرہ اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے دو رکعت صلاۃ الحاجت پڑھے، اس کے بعد دعائے استخارہ پڑھے، اگر ایک بار استخارہ کرنے سے تردد دور نہ ہو تو دوسری اور تیسری بار کرے، لیکن اگر ایک بار کرنے سے ہی تردد دور ہو جائے اور ایک جانب رجحان بن جائے، تو مزید استخارہ کی ضرورت نہیں، ورنہ سات بار تک استخارہ کیا جا سکتا ہے۔
تاہم اگر ساتویں بار بھی تردد دور نہ ہو ،تو استخارہ کا عمل ترک کر دیا جائے اور وہ کام بھی نہ کیا جائے۔
جبکہ استخارہ میں خواب کا آنا ضروری نہیں، بلکہ کسی ایک جانب دل کا مائل ہو جانا اور اسباب کا پیدا ہو جانا بھی اس کام میں بہتری کی علامات ہیں۔
كما في سنن الترمزی: عن جابر بن عبد الله قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا الاستخارة" في الأمور كلها، كما يعلمنا السورة من القرآن، يقول: إذا هم أحدكم بالأمر فليركع ركعتين من غير الفريضة، ثم ليقل: اللهم إني أستخيرك بعلمك وأستقدرك بقدرتك، وأسألك من فضلك العظيم؛ فإنك تقدر ولا أقدر، وتعلم ولا أعلم، وأنت علام الغيوب، اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في ديني ومعيشتي وعاقبة أمري، أو قال: في عاجل أمري وآجله: - فيسره لي ثم بارك لي فيه، وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني، ومعيشتي، وعاقبة أمري أو قال: في عاجل أمري وآجله - فاصرفه عني، واصرفني عنه، واقدر لي الخير حيث كان، ثم أرضني به. قال: ويسمي حاجته اھ(1/ 109)
وفي ردالمحتار: قلت: أو يقول بعده وهو كذا وكذا، وقالوا الاستخارة في الحج ونحوه تحمل على تعيين الوقت. (إلى قوله) وينبغي أن يكررها سبعا، لما روى ابن السني "يا أنس إذا هممت بأمر فاستخر ربك فيه سبع مرات، ثم انظر إلى الذي سبق إلى قلبك فإن الخير فيه" ولو تعذرت عليه الصلاة استخار بالدعاء اهـ ملخصا. (2/ 26)
نیک عمل مکمل کرنے سے قبل اگر نیت خالص کر لی جائے تو وہ عمل ریاکاری میں شمار ہوگا یا نہیں؟
یونیکوڈ استخارہ 0کتنا علم حاصل کرنا فرض ہے؟ نیز فحش باتوں اور ناجائز امور کا گناہ کب تک ملتا رہے گا؟
یونیکوڈ استخارہ 0غیر مسلموں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا تو حرام البتہ اتفاقا ساتھ کھانا بہ امرِ مجبوری جائز ہے
یونیکوڈ استخارہ 0برکت کے لیے طلباء اور علماء کو گھر لے جا کر دعا اور قرآن بخشوانا اور کھانا کھلانا
یونیکوڈ استخارہ 0