السلام علیکم! مفتی صاحب! پوچھنا یہ ہے کہ
۱۔ کیا کسی خاص رشتے دار کے انتظار میں میت کو دفنانے اور کفنانے میں تاخیر کر سکتے ہیں؟
۲۔ میت کو دفنانے کے بعد دعا کرنا اور سورۂ اخلاص پڑھنا ، میت کو ثواب پہنچانے کی غرض سے جائز ہے یا نہیں؟ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے ۔
میت کی تجہیز و تکفین اور تدفین کے لوازمات پورے ہو جانے کے بعد کسی عزیز ورشتہ دار کے انتظار میں تاخیر کرنا حاضرین اور میت کی اذیت کا باعث ہونے کی بناء پر مکروہ ہے، جس سےاحتراز چاہیے۔
جبکہ تدفین میت کے بعد اُس کے سرہانے سورہ بقرہ کاپہلا رکوع اور پاؤں کی طرف سورہ بقرہ کا آخری رکوع پڑھنا مستحب ہے، نیز ا س کے بعد میت کے حق میں یا دیگر مردوں کے ایصال ثواب کے لیے سورہ اخلاص وآيۃ الكرسی وغیرہ پڑھنا بھی بلا شبہ جائز و درست ہے۔
ففي مشكاة المصابيح: عن عبد الله بن عمر قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «إذا مات أحدكم فلا تحبسوه وأسرعوا به إلى قبره وليقرأ عند رأسه فاتحة البقرة وعند رجليه بخاتمة البقرة» . رواه البيهقي في شعب الإيمان اھ (1/ 538)
وفیه أیضاً: عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا صليتم على الميت فأخلصوا له الدعاء» . رواه أبو داود وابن ماجه اھ (1/ 527)
وفی الدر المختار: وكره تأخير صلاته ودفنه اھ (2/ 232)