مفتی صاحب السلام علیکم!
اس بارے میں اسلام کا کیا طریقہ کا ر ہے کہ ایک عورت جو کہ آٹھ مہینے کی حاملہ تھی، انتقال کر گئی ، اور بچہ اس کے پیٹ میں ابھی تک زندہ ہے، کیا بچے کو نکالنا جائز ہے ، براہِ مہربانی جواب قرآن و سنت سے دیں ۔
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ حمل حاملہ کے انتقال کے باوجود اگر زنده ہو تو اس صورت میں اُسے حاملہ کے پیٹ سے نکالنا بلا شبہ جائز و درست ہے۔
ففي الدر المختار: (حامل ماتت وولدها حي) يضطرب (شق بطنها) من الأيسر (ويخرج ولدها) اھ (2/ 238)-
و فى البحر الرائق: امرأة حامل ماتت فاضطرب الولد في بطنها فإن كان أكبر رأيه أنه حي يشق بطنها لأن ذلك تسبب في إحياء نفس محترمة بترك تعظيم الميت فالإحياء أولى ويشق بطنها من الجانب الأيسر (8/ 233)۔