مباحات

انتقال کے بعد حاملہ عورت کے پیٹ سے زندہ بچہ نکالنے کاحکمم

فتوی نمبر :
4006
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

انتقال کے بعد حاملہ عورت کے پیٹ سے زندہ بچہ نکالنے کاحکمم

مفتی صاحب السلام علیکم!
اس بارے میں اسلام کا کیا طریقہ کا ر ہے کہ ایک عورت جو کہ آٹھ مہینے کی حاملہ تھی، انتقال کر گئی ، اور بچہ اس کے پیٹ میں ابھی تک زندہ ہے، کیا بچے کو نکالنا جائز ہے ، براہِ مہربانی جواب قرآن و سنت سے دیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ حمل حاملہ کے انتقال کے باوجود اگر زنده ہو تو اس صورت میں اُسے حاملہ کے پیٹ سے نکالنا بلا شبہ جائز و درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الدر المختار: (حامل ماتت وولدها حي) يضطرب (شق بطنها) من الأيسر (ويخرج ولدها) اھ (2/ 238)-
و فى البحر الرائق: امرأة حامل ماتت فاضطرب الولد في بطنها فإن كان أكبر رأيه أنه حي يشق بطنها لأن ذلك تسبب في إحياء نفس محترمة بترك تعظيم الميت فالإحياء أولى ويشق بطنها من الجانب الأيسر (8/ 233)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
نور حبیب شاہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 4006کی تصدیق کریں
0     411
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات