حرام طریقہ علاج و ادویات

مانع حمل گولیاں استعمال کرنا

فتوی نمبر :
40050
| تاریخ :
حظر و اباحت / حلال و حرام / حرام طریقہ علاج و ادویات

مانع حمل گولیاں استعمال کرنا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مفتی صاحب کچھ دوائیوں کے بارے میں پوچھنا ہے آیا وہ حلال ہیں یا حرام ؟ یہاں پر تصویر بھیجنے کا اپشن نہیں آر ہا، اس لیے صرف نام بھیجنے کا اپشن آر ہا، اس لیے صرف نام بھیج رہی ہوں، ۔۔۔ مانع حمل گولیاں، ۔۔۔۔ مانع حمل گولیاں، ۔۔۔۔ (400 ملی گرام)۔۔۔ اور ۔۔۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور ادویات کے اجزاء ترکیبی معلوم کرنے کے بعد اگر ان میں کوئی احرام یا مضر اجزاء شامل نہ ہوں، تو جائز مقصد کے لیے ان کا استعمال اگر چہ شرعاً جائز اور حلال ہوگا، مگر ناجائز مقصد (جیسے مرد یا عورت میں بچوں کی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کرنے وغیرہ کے لیے )اس کا استعمال درست نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : والأرجح تحريم أكل الطين والتراب والعظام والخبز المحروق بالنار، منعاً لأذى البدن. الخ (4/2597)۔
وفی الھندیة: أكل الطين مكروه، هكذا ذكر في فتاوى أبي الليث - رحمه الله تعالى - وذكر شمس الأئمة الحلواني في شرح صومه إذا كان يخاف على نفسه أنه لو أكله أورثه ذلك علة أو آفة لا يباح له التناول، وكذلك هذا في كل شيء سوى الطين، وإن كان يتناول منه قليلا أو كان يفعل ذلك أحيانا لا بأس به، كذا في المحيط. ( الی قولہ) وسئل بعض الفقهاء عن أكل الطين البخاري ونحوه قال لا بأس بذلك ما لم يضر وكراهية أكله لا للحرمة بل لتهييج الداء، وعن ابن المبارك كان ابن أبي ليلى يرد الجارية من أكل الطين وسئل أبو القاسم عمن أكل الطين قال ليس ذلك من عمل العقلاء، كذا في الحاوي للفتاوى. الخ (5/340)۔
و فی احکام القرآن للجصاص: قال الله تعالى [إنما حرم عليكم الميتة] وقوله تعالى [حرمت عليكم الميتة] لم يقتض تحريم ما ماتت فيه من المائعات وإنما اقتضى تحريم عين الميتة وما جاور الميتة فلا يسمى ميتة فلم ينتظمه لفظ التحريم ولكنه محرم الأكل بسنة النبي صلى الله عليه وسلم وهو ما روى الزهري عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة قال سئل النبي صلى الله عليه وسلم عن الفأرة تقع في السمن فقال صلى الله عليه وسلم إن كان جامدا فألقوها وما حولها وإن كان مائعا فلا تقربوه ( الی قولہ ) فأطلق النبي صلى الله عليه وسلم جواز الانتفاع به من غير جهة الأكل وهذا يقتضي جواز بيعه لأنه ضرب من ضروب الانتفاع ولم يخص النبي صلى الله عليه وسلم شيئا منه الخ (1/146)۔
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ: جعل المرأة عقيماً، بمعالجة تمنع الإنجاب نهائياً. وقد صرح الفقهاء بأنه يحرم استعمال ما يقطع الحبل من أصله، لأنه كالوأد (4). وذلك إلا إذا كانت هناك ضرورة ملجئة كانتقال مرض خطير بالوراثة إلى الأولاد (الی قولہ) أما ما يبطئ الحبل مدة، ولا يقطعه من أصله، وهو المعروف بتنظيم الحمل، فلا يحرم، بل إن كان لعذر كتربية ولد، لم يكره أيضاً، وإلا كره عند الشافعية. الخ (3/558)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عمرفاروق شیخ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 40050کی تصدیق کریں
0     6
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • Centrum and Omega 3 - سینٹرم اور اومیگا کیپسول استعمال کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
  • مصنوعی بال لگوانے اور ان پر مسح کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
  • ٹیسٹ ٹیوب بے بی کا حکم

    یونیکوڈ   حرام طریقہ علاج و ادویات 1
  • پینٹ فولڈ کرکے نماز پڑھنے کا حکم -خاندانی منصوبہ بندی کے جائز و ناجائز طریقے

    یونیکوڈ   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
  • اولاد ہونے کیلئے علاج کروانے کا حکم

    یونیکوڈ   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
  • نزلے کے اخراج کے لیے شراب استعمال کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
  • مردوں اور عورتوں کے لیے خضاب، اور الکحل والی پرفیوم استعمال کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
  • مانع حمل گولیاں استعمال کرنا

    یونیکوڈ   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
  • موجودہ دور میں تیار ہونے والی ویکسین کا حکم

    یونیکوڈ   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
  • قادیانی کمپنی کی دوائی استعمال کرنا

    یونیکوڈ   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
  • گائے اور بھینس کے جیلاٹین سے بنے کیپسول کھانا

    یونیکوڈ   حرام طریقہ علاج و ادویات 1
  • حصولِ اولاد کے لئے "سروکیسی"کے طریقۂ کار کو اختیار کرنا

    یونیکوڈ   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
  • کرونا ویکسین کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   انگلش   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
  • جوڑوں کے درد کے لئے سانپ کی چربی سے دوا تیار کرنا -اور اس کو لگا کر نماز پڑھنے کاحکم

    یونیکوڈ   انگلش   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
Related Topics متعلقه موضوعات