بخدمت جناب مفتیانِ کرام جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
جناب عالی ! گزارش ہے کہ اگر غرباء مستحق لوگوں کے لئے اگر کوئی صاحبِ استطاعت آدمی قبریں کھدوا کر ایڈوانس میں کسی بھی ایمرجنسی کے لئے رکھواتا ہے محض اللہ پاک کی رضا کے لئے اور ان غرباء سے کسی قسم کا کوئی تقاضا ( کھودائی کی اجرت وغیرہ کا) نہیں کرتا ، تاکہ ایمر جنسی فوتگی کے ٹائم پر ان غرباء لوگوں کو کوئی پریشانی نہ اٹھانی پڑے تو کیا اس عمل سے گناہ ہوتا ہے ؟ یہ عمل درست ہے یا نہیں؟ اس عمل سے غرباء لوگوں کی پریشانیاں فوتگی کے ٹائم پر کم ہو رہی ہیں اس مہنگائی کے دور میں ، آپ حضرات سے شرعی راہ نمائی کی درخواست ہے۔ والسلام !
اگر اس عمل میں کوئی اور خرابی نہ ہو تو غرباء کے لئے قبریں کھدوا کر رکھنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔
كما في التاتارخانية : ومن حفر قبراً لنفسه قبل موته، فلا بأس به ، و يؤجر عليه، هكذا عمل عمر بن عبد العزيز والربيع بن خيثم وغيرهم. اھ (۲/172) مط: ادارة القرآن )-