تدفین

تعزیت کے تین یوم کی ابتداء کا بیان

فتوی نمبر :
38422
| تاریخ :
2019-10-07
عبادات / جنائز / تدفین

تعزیت کے تین یوم کی ابتداء کا بیان

میت کی تعزیت کے تین ایام وفات سے شمار ہو نگے یا دفن سے ؟ نیز جو لوگ سعودی عرب اور دیگر فارن ممالک میں وفات پا جاتے ہیں، ان لوگوں کو واپس پاکستان لانے میں وقت لگ جاتا ہے، بعض میت ہفتہ جبکہ بعض میت کے کاغذات درست کرنے میں مہینہ تک بھی لگ جاتا ہے، ان اموات کی تعزیت کے بارے میں احکامِ شرعیہ کی وضاحت فرمادیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

میت کو دفن کرنے سے قبل اہلِ خانہ چونکہ میت کی تجہیز میں مشغول ہونے کی وجہ سے فارغ نہیں ہوتے ، اس لئے تعزیت کا افضل اور بہتر وقت میت کو دفن کرنے کے بعد ہی کا ہے، البتہ اگر اس سے قبل بھی انہیں فرصت ہو یا میت کو دفنانے میں زیادہ تاخیر ہو ( اگر چہ بلاوجہ میت کو دفن کرنے میں تاخیر کرنا درست نہیں) تو میت کو دفن کرنے سے قبل بھی تعزیت کی جاسکتی ہے، شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

و فى حاشية ابن عابدين : تحت (قوله و أولها أفضل) و هي بعد الدفن أفضل منها قبله لأن أهل الميت مشغولون قبل الدفن بتجهيزه و لأن وحشتهم بعد الدفن لفراقه أكثر ، و هذا إذا لم ير منهم جزع شديد ، و إلا قدمت لتسكينهم جوهرة (قوله و تكره بعدها) لأنها تجدد الحزن منح و الظاهر أنها تنزيهية ط (قوله إلا لغائب) أي إلا أن يكون المعزي أو المعزى غائبا فلا بأس بها جوهرة . قلت : و الظاهر أن الحاضر الذي لم يعلم بمنزلة الغائب كما صرح به الشافعية اھ (2/ 241)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
غلام یسین شبیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 38422کی تصدیق کریں
0     1252
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات