احکام نماز

نماز کے وقت مسجد میں رکھی ہوئی ٹوپیاں پہننا- نماز کے دوران اگر کسی کو چوری کرتا دیکھے تو نماز توڑی جاسکتی ہے ؟

فتوی نمبر :
378
| تاریخ :
2004-09-10
عبادات / نماز / احکام نماز

نماز کے وقت مسجد میں رکھی ہوئی ٹوپیاں پہننا- نماز کے دوران اگر کسی کو چوری کرتا دیکھے تو نماز توڑی جاسکتی ہے ؟

۱۔ نماز کے وقت مسجد کی ٹوپی پہننا منع ہے ، اس بات کو کس طرح پروف کیا جائے؟ اور اگر منع ہے تو مسجد میں کیوں رکھی جاتی ہے؟
۲۔ نماز کے دوران اگر کوئی پرس یا جوتے چوری کر رہا ہوں تو نماز توڑ کر اپنی چیزوں کی حفاظت کی جا سکتی ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱۔ مسجد میں رکھی ہوئی اگر ایسی ٹوپیاں ہوں کہ انہیں پہن کر عام مجالس میں جانے میں عار محسوس نہ کی جاتی ہو تب تو ان میں نماز بلاکراہت جائز اور درست ہے ورنہ مکروہ اور اس صورت میں انہیں پہن کر نماز پڑھنے سے احتراز لازم ہے۔
۲۔ جی ہاں! کر سکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الدر المختار: (و) كره (إلی قوله) (وصلاته في ثياب بذلة) يلبسها في بيته اھ(1/ 640)
وفی الفقه الإسلامي وأدلته: وأما ما يجوز قطع الصلاة له ولو فرضاً لعذر فهو ما يأتي: 1 - سرقة المتاع، ولو كان المسروق لغيره، إذا كان المسروق يساوي درهماً فأكثر. (2/ 1053)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبد النافع رؤوف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 378کی تصدیق کریں
0     392
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات