۱۔ نماز کے وقت مسجد کی ٹوپی پہننا منع ہے ، اس بات کو کس طرح پروف کیا جائے؟ اور اگر منع ہے تو مسجد میں کیوں رکھی جاتی ہے؟
۲۔ نماز کے دوران اگر کوئی پرس یا جوتے چوری کر رہا ہوں تو نماز توڑ کر اپنی چیزوں کی حفاظت کی جا سکتی ہے؟
۱۔ مسجد میں رکھی ہوئی اگر ایسی ٹوپیاں ہوں کہ انہیں پہن کر عام مجالس میں جانے میں عار محسوس نہ کی جاتی ہو تب تو ان میں نماز بلاکراہت جائز اور درست ہے ورنہ مکروہ اور اس صورت میں انہیں پہن کر نماز پڑھنے سے احتراز لازم ہے۔
۲۔ جی ہاں! کر سکتا ہے۔
ففی الدر المختار: (و) كره (إلی قوله) (وصلاته في ثياب بذلة) يلبسها في بيته اھ(1/ 640)
وفی الفقه الإسلامي وأدلته: وأما ما يجوز قطع الصلاة له ولو فرضاً لعذر فهو ما يأتي: 1 - سرقة المتاع، ولو كان المسروق لغيره، إذا كان المسروق يساوي درهماً فأكثر. (2/ 1053)