میرے والدمرحوم کے اُوپر 28 روزے اور 14 دن کی نمازیں قضا ہیں جو کہ بیماری کے باعث قضا ہوئےتھے،رہنمائی فرمائیں تاکہ ہم اپنے والد مرحوم کے ذمے بقایا روزوں اور نمازوں کے کفارہ ادا کرسکیں۔
واضح ہو کہ سائل کے والد نے اگر اپنی قضاء شدہ نمازوں اور روزوں کے متعلق وصیت نہ کی ہو تو سائل اور اس کے دیگر بہن بھائیوں کے ذمہ ان کا فدیہ ادا کر نالازم نہیں، البتہ اگر سائل بطور ِ تبرع قضاء نمازوں اور روزوں کا فدیہ دینا چاہے تو شرعاً یہ جائز اور درست ہے اس سے ان شاء الله سائل کے والد اُخروی مواخذہ سےسبکدوش ہو جائیں گے ۔ جبکہ ہر نماز اور وتر کو ملا کر یومیہ چھ نمازوں اور روزوں میں سے ہر ایک کےبدلے بقدر صدقہ فطر پونے دوسیر گندم یا اس کی قیمت بطور فدیہ ادا کرنا ہوگا ۔
کما فی الدر المختار: ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة ( وكذا حكم الوتر) والصوم اهـ ( ج ۲ ص ۷۲)-
وإن لم يوص لورثته وتبرع بعض الورثة يجوز ويدفع عن كل صلاة نصف صاع حنطة اهـ ( ج ۱ ص (۱۲۴) -