کیا فرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک باپ کا گھر اور دکان ہے، جن کی کوئی آمدنی نہیں ہے، ابھی وہ اپنی بیٹی کی شادی کر رہے ہیں ، اور ان کے پاس پیسے نہیں ہیں، اپنی بیٹی کی شادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ۔وہ زکوٰۃ کے مستحق ہیں یا نہیں؟
نوٹ: تنقیح میں سائل نے یہ واضح کیا کہ سوال میں مذکور مکان مستحق شخص کا رہائشی مکان ہے، اور مذکور دکان بھی وہ ہی شخص کبھی کبھی خود کھولتا ہے۔
سائل نے جس شخص کی دکان کا ذکر کیا ہے، اگر اس میں سامان اتنا ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس سے زائد ہو تو اس کے ہوتے ہوئے شخص مذکور زکوٰۃ نہیں لے سکتا،تاہم اگر وہ ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کا مالک نہ ہو، یا اس کے گھر کا کوئی فرد اس طرح مستحق ہو، اور سید خاندان سے بھی نہ ہوں، تو ان کو زکوٰۃ دینا اور ان کا لینا جائز اور درست ہے۔
کما فی الدرالمختار: (ولا) يحل أن (يسأل) من القوت (من له قوت يومه) بالفعل أو بالقوة كالصحيح المكتسب ويأثم معطيه إن علم بحاله لإعانته على المحرم الخ (2/355)۔
وفی فقہ الزکوۃ:وقال جمھور الحنفیة ، الاخذ لیس بحرام ، ولکن عدم الاخذ اولی لمن لہ سداد من عیش الخ(2/24)۔
رفاہی ادارہ "چیرٹی رائٹ آف پاکستان" میں رقمِ زکوۃ کے استعمال کی مختلف صورتوں کے احکام
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 1