السلام علیکم مفتی صاحب! میں نے اپنی والدہ سے پوچھا کہ آپ کی کوئی ایسی خواہش جو اب تک پوری نہ ہوئی ہو ؟ تو انہوں نے کہا کہ جب میرا انتقال ہو جائے تو میری تدفین تابوت میں کی جائے، آپ سے یہ معلوم کرنا کہ کیا ایسا کرنا شرعی طور پر جائز ہوگا یا نہیں ؟ اگر نہیں تو والدہ کو کیسے مطمئن کیا جائے ؟ تفصیلی جواب دینگے تو مہربانی ہوگی۔
واضح ہو کہ بلا عذرِ شرعی میت کو تابوت میں دفن کرنا درست نہیں، بلکہ مکروہ ہے اور اس پر عمل کرنا بھی لازم نہیں، اس لئے سائل کی والدہ کو چاہیئے کہ وہ اس قسم کی وصیتوں کی بجائے اپنی آخرت کی بہتری کے لئے اور اپنے لئے کوئی صدقہ جاریہ وغیرہ کی وصیت کرنے اور خود بھی اعمالِ خیر اپنانے کی کوشش کرنے اور نمازِ پنجوقتہ کی پاپندی کے ساتھ ساتھ تلاوتِ قرآن کریم کا بھی اہتمام کرے، تاکہ اس کی اخروی زندگی بہتر ہو سکے ، اس قسم کی وصیت کر کےبچوں کو آزمائش میں نہ ڈالے ۔
في الدر المختار : (و لا بأس باتخاذ تابوت) و لو من حجر أو حديد (له عند الحاجة) اھ (2/ 234)-
و فى حاشية ابن عابدين : فإذا وضع التابوت في اللحد أمن انهياره على الميت ، فلو لم يكن حفر اللحد تعين الشق ، و لم يحتج إلى التابوت إلا إن كانت الأرض ندية يسرع فيها بلى الميت قال في الحلية عن الغاية : و يكون التابوت من رأس المال إذا كانت الأرض رخوة أو ندية مع كون التابوت في غيرها مكروها في قول العلماء قاطبة . اهـ (2/ 234)-
و في الفقه الإسلامي و أدلته : الدفن في التابوت (أي السِحْلية : و هو أن يجعل في وعاء كالصندوق) هو من سنة النصارى لدفن أمواتهم ، و يستعمل عندنا لحالة العذر فقط ، كما يبين من كلام فقهائنا . قال الحنفية : لا بأس باتخاذ التابوت و لو من حجر أو حديد للميت عند الحاجة كرخاوة الأرض وكونها ندية أو لميت البحر أو للمرأة مطلقاً و يسن أن يفرش فيه التراب . اھ (2/ 679)-