السلام علیکم مفتی صاحب! جس جگہ کوئی تصویر ہو وہاں نماز نہیں ہو سکتی ، اور ایک جگہ یہ پڑھا کہ آپ ﷺ ایک مرتبہ حضرت فاطمہؓ کے گھر گئے اور دروازے کے پردے پر کوئی تصویر پائی ، تو فوراً وہاں سے رخصت ہو گئے، اسی لحاظ سے آج کل بچوں کی تعلیم کی کتابوں میں جانداروں کی تصویریں بنی ہوتی ہیں ، اور کھلونوں میں بھی ہوتی ہیں جو کہ بالکل جانور کی طرح نہیں ، مگر تشبیہ مکمل ہوتی ہے، جیسا کہ بھالو ، کتا ، طوطا وغیرہ وغیرہ ۔
۱۔اگر کسی جگہ (کمرہ) میں کوئی ABC کے پوسٹر ہوں ، یا کتا بیں کھولی ہوئی ہوں اور اس پر جانداروں کی تصویر ہو ، تو نماز ہوجائے گی؟
۲۔ کیا بچوں کو جانداروں کی تشبیہ والے کھلونے دلوا دیے جائیں اور گھر میں پڑے ہوں تو جائز ہوگا ؟
جاندار کی تصویر مجسمہ کی شکل میں ہو یا کھلی ہوئی کتاب میں یا کسی دیوار وغیرہ پر ہو ، اگر بڑی اور واضح ہونے کے علاوہ نمازی کے سامنے دائیں یا بائیں ہو ں تو اس صورت میں نماز پڑھنا مکروہ ہے ، جبکہ وہ کھلونے جو واضح طور پر کسی جاندار کی شکل میں ہوں ، تو ان کا بچوں کو خرید کر دینا جائز نہیں۔
في الدر المختار : (و لبس ثوب فيه تماثيل) ذي روح ، و أن يكون فوق رأسه أو بين يديه أو (بحذائه) يمنة أو يسرة أو محل سجوده (تمثال) و لو في وسادة منصوبة لا مفروشة (و اختلف فيما إذا كان) التمثال (خلفه و الأظهر الكراهة و) لا يكره (لو كانت تحت قدميه) أو محل جلوسه لأنها مهانة (أو في يده) عبارة الشمني بدنه لأنها مستورة بثيابه (أو على خاتمه) بنقش غير مستبين . قال في البحر و مفاده كراهة المستبين لا المستتر بكيس أو صرة أو ثوب آخر ، و أقره المصنف (أو كانت صغيرة) لا تتبين تفاصيل أعضائها للناظر قائما و هي على الأرض ، ذكره الحلبي اھ (1/ 648)۔
و في حاشية ابن عابدين : اشترى ثورا أو فرسا من خزف لأجل استئناس الصبي لا يصح و لا قيمة له اھ (1/ 650)۔