احکام نماز

جس کمرے میں تصاویرِ محرّ مہ لٹک رہی ہوں یا کھلونوں کی شکل میں پڑی ہوں، وہاں نماز پڑھنے کا حکم

فتوی نمبر :
36744
| تاریخ :
عبادات / نماز / احکام نماز

جس کمرے میں تصاویرِ محرّ مہ لٹک رہی ہوں یا کھلونوں کی شکل میں پڑی ہوں، وہاں نماز پڑھنے کا حکم

السلام علیکم مفتی صاحب! جس جگہ کوئی تصویر ہو وہاں نماز نہیں ہو سکتی ، اور ایک جگہ یہ پڑھا کہ آپ ﷺ ایک مرتبہ حضرت فاطمہؓ کے گھر گئے اور دروازے کے پردے پر کوئی تصویر پائی ، تو فوراً وہاں سے رخصت ہو گئے، اسی لحاظ سے آج کل بچوں کی تعلیم کی کتابوں میں جانداروں کی تصویریں بنی ہوتی ہیں ، اور کھلونوں میں بھی ہوتی ہیں جو کہ بالکل جانور کی طرح نہیں ، مگر تشبیہ مکمل ہوتی ہے، جیسا کہ بھالو ، کتا ، طوطا وغیرہ وغیرہ ۔
۱۔اگر کسی جگہ (کمرہ) میں کوئی ABC کے پوسٹر ہوں ، یا کتا بیں کھولی ہوئی ہوں اور اس پر جانداروں کی تصویر ہو ، تو نماز ہوجائے گی؟
۲۔ کیا بچوں کو جانداروں کی تشبیہ والے کھلونے دلوا دیے جائیں اور گھر میں پڑے ہوں تو جائز ہوگا ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جاندار کی تصویر مجسمہ کی شکل میں ہو یا کھلی ہوئی کتاب میں یا کسی دیوار وغیرہ پر ہو ، اگر بڑی اور واضح ہونے کے علاوہ نمازی کے سامنے دائیں یا بائیں ہو ں تو اس صورت میں نماز پڑھنا مکروہ ہے ، جبکہ وہ کھلونے جو واضح طور پر کسی جاندار کی شکل میں ہوں ، تو ان کا بچوں کو خرید کر دینا جائز نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

في الدر المختار : (و لبس ثوب فيه تماثيل) ذي روح ، و أن يكون فوق رأسه أو بين يديه أو (بحذائه) يمنة أو يسرة أو محل سجوده (تمثال) و لو في وسادة منصوبة لا مفروشة (و اختلف فيما إذا كان) التمثال (خلفه و الأظهر الكراهة و) لا يكره (لو كانت تحت قدميه) أو محل جلوسه لأنها مهانة (أو في يده) عبارة الشمني بدنه لأنها مستورة بثيابه (أو على خاتمه) بنقش غير مستبين . قال في البحر و مفاده كراهة المستبين لا المستتر بكيس أو صرة أو ثوب آخر ، و أقره المصنف (أو كانت صغيرة) لا تتبين تفاصيل أعضائها للناظر قائما و هي على الأرض ، ذكره الحلبي اھ (1/ 648)۔
و في حاشية ابن عابدين : اشترى ثورا أو فرسا من خزف لأجل استئناس الصبي لا يصح و لا قيمة له اھ (1/ 650)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ضیاء الرحمن عمر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 36744کی تصدیق کریں
0     1410
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات