حجر اسود کا بوسہ لینے کے لیے دھینگا مشتی کرنا ، یہاں تک کہ احرام کی ایک چادر تک اتر جائے ، شرعا درست ہوگا؟ مہربانی فرما کر اس مسئلے پر ڈالیں۔
حجر اسود کو بوسہ دینا ایک سنت عمل ہے ، اس کے لیے لوگوں کو دھکا وغیرہ کے ذریعہ تکلیف دے کر اس سنت کو پورا کرنا بڑی غلطی ہے، اس لئے اگر رش نہ ہو اور آسانی سے حجر اسود کو بوسہ دینا ممکن ہو تو بہتر ، ورنہ دور سے استلام کرنا چاہیئے ، جو کہ شرعی حکم بھی ہے۔
کما في مصنف ابن ابي شيبة : عن أبي يعفور قال: خطبنا رجل من خزاعة كان أميرا على الحج بمكة، فقال: يا أيها الناس، إن عمر كان رجلا شديدا، وإن رسول الله ﷺ قال له: «يا عمر، إنك رجل شديد تؤذي الضعيف، فإذا طفت بالبيت، ورأيت من الحجر خلوة، فادن منه وإلا فكبر، وهلل، وامض (3/ 171) ۔