”یا رسول اللہ“کہنا کیسا ہے؟ قرآن اور حدیث کی روشنی میں تفصیل سے وضاحت فرمائیں۔ آپ کی بہت بہت مہربانی ہوگی۔
اگر کوئی شخص آپ علیہ السلام کے روضۂ اطہر پر حاضری دیتے وقت”یا رسول الله“جیسے کلمات سے آپ علیہ السلام کو مخاطب ہو تو یہ بلاشبہ جائز و درست ہے اور اگر روضۂ اطہر سے دوری کے وقت اس قسم کے الفاظ و کلمات کہے اور اس عقیدے اور نظریہ سے کہے کہ”آپ علیہ السلام میرے پاس حاضر ہیں اور مجھے دیکھ رہے ہیں اور میری ندا اور پکار سن رہے ہیں“ تو اس صورت میں یہ نظریہ بلاشبہ شرکیہ اورناجائز ہے، اس لئے ایسا عقیدہ رکھنے اور اس نظریہ سے خطاب کے صیغوں کیساتھ درود و سلام پڑھنے سے احتراز لازم ہے۔
کما قال الله تعالىٰ: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا﴾ (النساء: 116)
وفي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ثنتان موجبتان. قال رجل: يا رسول الله ما الموجبتان؟ قال: (من مات يشرك بالله شيئا دخل النار ومن مات لا يشرك بالله شيئا دخل الجنة)۔ (رواه مسلم) (1/15)
کسی چیز پر اللہ کا یا کسی اور مذہب کا نام ظاہر ہوجانا، کیا اس مذہب کے حقانیت پر ہونے کی دلیل مان سکتے ہیں؟
یونیکوڈ توحید 0