السلام علیکم! جناب مفتی صاحب! اللہ پاک آپ علماء کرام کو صحت اور تندرستی عطا فرمائے، آمین۔ جناب عالی! میرا سوال یہ ہے کہ خیرات اور صدقہ میں کیا فرق ہے؟ کیا ہم صدقے کا گوشت خود بھی کھا سکتے ہیں؟ یا صرف بانٹ سکتے ہیں؟ شکریہ!
صدقہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا اردو میں ’’خیرات‘‘ سے بھی ترجمہ کیا جاتا ہے، اس لیے دونوں لفظوں میں کوئی فرق نہیں، جبکہ صدقہ وخیرات اگر نفلی ہوں شریعت نے اس کا دینا لازم نہ کیا ہو تو اس سے خود کھانا اور فقراء پر تقسیم کرنا ہردو امور جائز ہیں، البتہ اگر صدقہ واجبہ ہو جیسے صدقہ فطر ،فدیہ اور نذر (منت) وغیرہ تو اس میں سے خود کھانا ، سید وغیرہ ، غیر مستحق کو کھلانا جائز نہیں، بلکہ اسے فقراء اور مستحقین میں تقسیم کرنا ضروری ہے۔
کما فی حاشية ابن عابدين: (قوله ويأكل من لحم الأضحية إلخ) هذا في الأضحية الواجبة والسنة سواء إذا لم تكن واجبة بالنذر، وإن وجبت به فلا يأكل منها شيئا ولا يطعم غنيا سواء كان الناذر غنيا أو فقيرا لأن سبيلها التصدق وليس للمتصدق ذلك، ولو أكل فعليه قيمة ما أكل زيلعي(6/ 327) واللہ أعلم بالصواب!