کیا نمازِ تراویح آٹھ(۸) رکعات ادا کرنے سے ہو جائے گی؟ اور کیا چار رکعت کر کے نماز تراویح پڑھ سکتے ہیں یا دو رکعت سے؟
احادیث و آثارِ صحابہ وتابعین سے ثابت ہے کہ تراویح بیس رکعات سنتِ مؤکدہ ہیں اور اس پر پوری امت کاتعامل بھی ہے، اس لیے آٹھ رکعت پڑھنے سے یہ سنت ادا نہیں ہوگی، جبکہ تراویح چار، چار، رکعت کر کے بھی پڑھ سکتے ہیں۔
ففی السنن الكبرى للبيهقي: عن ابن عباس قال: " كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي في شهر رمضان في غير جماعة بعشرين ركعة، والوتر "(2/ 698)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله وهي عشرون ركعة) هو قول الجمهور وعليه عمل الناس شرقا وغربا. (2/ 45) واللہ أعلم۔
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0