اگر مسجد کو شہید کرکے دوبارہ تعمیر کرنا ہوتو مسجد کی شہادت کے بعد مسجد کی زمین پر جہاں شرعی مسجد تھی وہاں کچھ لوگوں کو باجماعت پانچ وقت کی نماز پڑھنی ضروی ہے؟ جب تک مسجد پوری تعمیر ہوجائے اور پھر نماز باجماعت شروع ہوجائے۔
اگر مسجد کی چھت اور دیواریں گرانے کے بعد اس کے فرش پر نماز پڑھنا ممکن نہ ہو تو عارضی طور پر کسی دوسری جگہ بھی نماز پڑھی جاسکتی ہے۔
لما فی الدر المختار: (ولو خرب ما حولہ واستغنی عنہ یبقی مسجدا عند الامام والثانی) ابدا الی قیام الساعۃ (وبہ یفتی) حاوی القدسی (ج۴، ص۳۵۸، کتاب الوقف)
وفی الشرح المجلۃ: (المادۃ ۲۱ ’’الضرورات تبیح المحظورات) ہذہ قاعدۃ اصولیۃ مأخوذۃ من النص وہو قولہ (إلا ما اضطررتم الیہ) والاضطرار ای الحاجۃ الشدیدۃ والمحظور المنھی عنہ فعلہ یعنی الممنوع شرعا یباح عندالضرورۃ (ج۱، ص۵۵) واللہ اعلم بالصواب