گزارش ہے کہ محمدی ۔۔۔۔۔میں ایک مدرسہ بنام۔۔۔۔ قائم ہے جو عرصہ بائیس سال سے مقامی طلباء وطالبات کو ناظرہ اور حفظ قرآن کی سہولت فراہم کر رہاہے۔ جو دن میں تشریف لاتے اور شام میں چلے جاتے ہیں مدرسہ میں قیام وطعام کی نہ تو سہولت موجود ہے اور نہ ہی یہاں مسافر طلباء موجود ہیں۔
مدرسہ کے بانی استاد حضرت مولانا۔۔۔ مرحوم ومغفور اپنے زمانے میں اس ادارہ کے لیے صرف چرم ہائے قربانی جمع کیا کرتے اور مدرسہ ہذا کا نظم وسنق چلاتے تھے لیکن ہم سے پہلے مسجد ومدرسہ کمیٹی نے زکوٰۃ، صدقات، خیرات، فطرہ وغیرہ بھی وصول کرنا شروع کردیا تھا جس کے لیے وہ پمفلٹ اور بینرز کے ذریعہ بھی اپیل کرتے رہے ہیں۔
ہمیں آپ سے معلوم کرنا ہے کہ جس مدرسہ میں مسافر طلبا موجود نہ ہوں اور جس میں قیام وطعام کا بندوبست بھی نہ ہو کیا وہ ادارہ زکوٰۃ صدقات، خیرات، فطرہ اور قربانی کی کھالیں وصول کرسکتاہے؟ اگر ہاں تو اس آمدنی کی شرعی مصارف کیا ہیں؟
واضح ہو کہ زکوٰۃ اور دیگر صدقاتِ واجبہ کے حقدار اور مصرف وہ لوگ ہیں جو واقعتاً مستحق ہوں اب اگر مذکورہ مدرسہ میں زکوٰۃ وغیرہ کے صرف کرنے کا کوئی مصرف نہ ہو( جیسا کہ سوال سے بھی یہی معلوم ہورہاہے )تو اس مدرسہ کی انتظامیہ کا عوام الناس سے زکوٰۃ اور دیگر صدقاتِ واجبہ یا چرم قربانی وصول کرنا شرعاً درست نہیں۔ انہیں اپنے مذکور رویہ سے احتراز لازم ہے۔ واللہ اعلم!
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0