اگر کوئی دوسرے کے لئے استخارہ کرے، کیا یہ صحیح ہے یا نہیں؟ اگر یہ صحیح ہے تو استخارہ کا طریقہ کیا ہے دوسرے کے لئے؟
جی ہاں! دوسرے کے لئے بھی استخارہ کر سکتے ہیں اور طریقہ ایک ہی ہے اپنے لئے اور دوسرے کے لئے ۔
استخارہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ دو رکعت نماز نیتِ نفل اس طرح پڑھیں کہ پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ کافرون اور دوسری رکعت میں سورۂ اخلاص ہو اور نماز سے فراغت کے بعد خوب دل لگا کر دعائے استخارہ پڑھیں اور پھر پاک و صاف بستر پر دائیں کروٹ قبلہ رخ ہو کر لیٹ جائیں ، بیدار ہونے پر اگر کسی ایک جانب رجحان غالب ہو تو اس کو اختیار کرلیں اور اگر اسی کام سے عدمِ اطمنان ہو تو اس کو ترک کر دیں کہ یہی استخارہ ہے، اگر اس کام کے بارے میں تردد رہے تو پھر دوسرے دن حتیٰ کہ سات دن تک یہ عمل کرنے کی گنجائش ہے، پھر اگر سات دن گزرنے کے بعد بھی فیصلہ نہ ہو پائے تو پھر کسی بھی جانب کو اختیار کیا جا سکتا۔
نیز استخارہ کی دعا عام نماز کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔
کما في رد المحتار: مطلب فی ركعتي الاستخارة. (قوله ومنها ركعتا الاستخارة) عن "جابر بن عبد الله قال: كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يعلمنا الاستخارة فی الأمور كلها كما يعلمنا السورة من القرآن يقول إذا هم أحدكم بالأمر فليركع ركعتين من غير الفريضة، ثم ليقل: "أللّٰهُمَّ إني أستخيرك بعلمك، وأستقدرك بقدرتك، وأسألك من فضلك العظيم، فإنك تقدر ولا أقدر، وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب. أللّٰهُمَّ إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي فی ديني ومعاشي وعاقبة أمري أو قال عاجل أمري وآجله، فاقدره لي ويسره لي ثم بارك لي فیه، وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي فی ديني ومعاشي وعاقبة أمري أو قال عاجل أمري وآجله فاصرفه عني واصرفني عنه، واقدر لي الخير حيث كان ثم رضني به، قال ويسمي حاجته" رواه الجماعة إلا مسلما شرح المنية. (إلى قوله) وفي الحلية: ويستحب افتتاح هذا الدعاء وختمه بالحمدلة والصلاة. وفي الأذكار أنه يقرأ فی الركعة الأولى الكافرون، وفي الثانية الإخلاص. اهـ. وعن بعض السلف أنه يزيد فی الأولى - وينبغي أن يكررها سبعا، لما روى ابن السني "يا أنس إذا هممت بأمر فاستخر ربك فیه سبع مرات، ثم انظر إلى الذي سبق إلى قلبك فإن الخير فیه" ولو تعذرت عليه الصلاة استخار بالدعاء اهـ ملخصا. وفي شرح الشرعة: المسموع من المشايخ أنه ينبغي أن ينام على طهارة مستقبل القبلة بعد قراءة الدعاء المذكور، فإن رأى منامه بياضا أو خضرة فذلك الأمر خير، وإن رأى فیه سوادا أو حمرة فهو شر ينبغي أن يجتنب اهـ (2/ 26)
نیک عمل مکمل کرنے سے قبل اگر نیت خالص کر لی جائے تو وہ عمل ریاکاری میں شمار ہوگا یا نہیں؟
یونیکوڈ استخارہ 0کتنا علم حاصل کرنا فرض ہے؟ نیز فحش باتوں اور ناجائز امور کا گناہ کب تک ملتا رہے گا؟
یونیکوڈ استخارہ 0برکت کے لیے طلباء اور علماء کو گھر لے جا کر دعا اور قرآن بخشوانا اور کھانا کھلانا
یونیکوڈ استخارہ 0غیر مسلموں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا تو حرام البتہ اتفاقا ساتھ کھانا بہ امرِ مجبوری جائز ہے
یونیکوڈ استخارہ 0