میرا نام زید ہے، میری عمر 48 سال ہے، اور میرے تین بچے ہیں، میں پشاور میں ایک خلع یافتہ عورت سے شادی کرنا چاہتا ہوں ، اس کا نام عائشہ ہے، کیا آپ میرے لیے استخارہ کر سکتے ہیں؟
سائل کو چاہیے کہ پہلے اس بات کی تحقیق کرلے کہ خلع مذکور خاتون نے کیسے حاصل کیا ؟ اور وہ شرعاً درست بھی ہوا ہے یا نہیں؟ اگر تحقیق سے اس کا درست ہونا معلوم ہو تو اس مقصد کے لیے سائل خود استخارہ کرے تو بہتر ہو گا جس کا طریقہ درج ذیل ہے۔
اچھی طرح وضو کر کے دورکعت نماز صلوۃ الحاجت پڑھے اس کے بعد اول آخر درود پڑھ کر یہ دعا پڑھے : " اللَّهُمَّ إنِّي أَسْتَخِيرُك بِعِلْمِك، وَأَسْتَقْدِرُك بِقُدْرَتِك، وَأَسْأَلُك مِنْ فَضْلِك الْعَظِيمِ، فَإِنَّك تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ. اللَّهُمَّ إنْ كُنْت تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي أَوْ قَالَ عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ، فَاقْدِرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كُنْت تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي أَوْ قَالَ عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدِرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ اور جب لفظ هذا الامر پر پہنچے تو اپنی حاجت کا دھیان دل میں لائے اس کے بعد بہتر یہ ہے کہ پاک کپڑوں کے ساتھ وضو کی حالت میں قبلہ رخ ہو کر سو جائے، سو کر اٹھنے کے بعد جو بات دل میں مضبوطی سے آئے وہ کرے، اگر ایک مرتبہ استخارہ کرنے سے تر دو د ختم نہ ہو تو دوبارہ سہہ بارہ کرے حتی کہ سات دن تک ایسا کرے ان شاء الله جس جانب میں خیر ہوگی اس طرف دل کا میلان ہو جائیگا۔
كما في صحيح البخاري: عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا الاستخارة في الأمور كلها، كما يعلمنا السورة من القرآن، يقول: " إذا هم أحدكم بالأمر، فليركع ركعتين من غير الفريضة، ثم ليقل: اللهم إني أستخيرك بعلمك الخ (2/ 57)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله ومنها ركعتا الاستخارة) عن «جابر بن عبد الله قال: كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يعلمنا الاستخارة في الأمور كلها كما يعلمنا السورة من القرآن يقول إذا هم أحدكم بالأمر فليركع ركعتين من غير الفريضة اھ (2/ 26)
وفيها ايضا: وينبغي أن يكررها سبعا، لما روى ابن السني يا أنس إذا هممت بأمر فاستخر ربك فيه سبع مرات، ثم انظر إلى الذي سبق إلى قلبك فإن الخير فيه اھ(2/ 27)
نیک عمل مکمل کرنے سے قبل اگر نیت خالص کر لی جائے تو وہ عمل ریاکاری میں شمار ہوگا یا نہیں؟
یونیکوڈ استخارہ 0کتنا علم حاصل کرنا فرض ہے؟ نیز فحش باتوں اور ناجائز امور کا گناہ کب تک ملتا رہے گا؟
یونیکوڈ استخارہ 0برکت کے لیے طلباء اور علماء کو گھر لے جا کر دعا اور قرآن بخشوانا اور کھانا کھلانا
یونیکوڈ استخارہ 0غیر مسلموں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا تو حرام البتہ اتفاقا ساتھ کھانا بہ امرِ مجبوری جائز ہے
یونیکوڈ استخارہ 0