تبلیغی جماعت صرف ایک معروف طریقے پر کام کر رہی ہے، اسے ملک وملت سے کوئی واسطہ نہیں ہے، کہ کون سا قانون بن رہا ہے یا نہیں، چاہے وہ قانون غیر شرعی ہو اس کے بارے میں راہ نمائی فرما دیں۔
1-اگر منہ میں دو مصنوعی دانت لگے ہوں تو وضو ہو جائے گا یا نہیں؟
2-فدائی حملہ جائز ہے یا نہیں؟ بعض لوگ اسے خود کشی کہتے ہیں۔
-اگر دوسرے لوگ خلافِ شروع قوانین کو روکنے کیلئے کافی نہ ہوں، تو تبلیغی جماعت والے ہوں یا کسی بھی اسلامی اور مذہبی جماعت سے منسلک لوگ، ان کا یہ طرزِ عمل شرعاً درست نہیں، مگر جب دوسرے لوگ اس کام کیلئے کافی ہوں، تو بلا وجہ تبلیغی حضرات کو موردِ طعن قرار دینا اور ان پر معترض ہونا، سراسر زیادتی ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ دین کے مختلف شعبے ہیں اور ہر شعبہ میں کام کرنے والے افراد کی ذمہ داریاں بھی جدا جدا ہیں اور ہر ہر شعبہ سے متعلق افراد اپنی اپنی ذمہ داریاں سر انجام دیتے ہوئے دوسرے شعبہ کی ذمہ داریوں کا شرعاً انکار اور نفی نہیں کر سکتے اور نہ ہی ان میں نکتہ چینی کر کے انکی ذمہ داریوں کو ناحق اور غلط کہہ سکتے ہیں، بلکہ ہر ایک شعبہ کو حق اور سچ سمجھتے ہوئے اپنے متعلقہ شعبہ کے تمام امور کو احسن طریقہ سے سر انجام دینے کی کوشش کرنی چاہیئے ۔
2-مصنوعی دانت مانعِ وضو نہیں، لہٰذا ان کو نکالے بغیر اسی حالت میں وضو کرنا،بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
-اگر کفار کے ساتھ باقاعدہ جنگ جاری ہو، جیسے کہ فلسطین، کشمیر، چیچنیا وغیرہ میں ہے، تو اس حالت میں اگر کوئی مسلمان مجاہد اپنے ساتھ بم یا بارود لے کر یا اپنے جسم سے بم باندھ کر دشمن پر حملہ کرلے اور حملہ کرنے میں حملہ کرنے والے کی اپنی موت یقین یا ظن غالب کے درجہ میں ہو اور حملہ کرنے والے کا ارادہ یہ ہو کہ دشمن کے علاقہ میں پہنچ کر بم یا بارود کو اپنے جسم سے علیحدہ کر کے دشمن یا انکی تنصیبات پر پھینکے گا اور اسطرح کرنے کا امکان بھی موجود ہو اور اسطرح کرنے سے حملہ کرنے والے کا مقصد خالص اللہ تعالیٰ کی رضا اور شہادت کا حصول ہو اور اس حملہ سے کفار کے جانی و مالی نقصان ہونے کا یقین یا غالب گمان ہو اور اس اقدام سے مسلمانوں کی ہیبت اور رعب کفار کے دلوں میں بیٹھتا ہو اور اس عمل سے خود مسلمانوں میں جذبۂ شہادت و بہادری پیدا ہوتی ہو، یا اس حملہ سے کوئی معتدبہٖ اور قابلِ اعتبار دینی منفعت مسلمانوں کو حاصل ہو، تو ان تمام صورتوں میں خودکش بمبار حملہ مستحسن اور باعثِ اجر ہے اور ایسے بہادرانہ اقدام کرنے والے کی شہادت حقیقی شہادت ہے، جس پر قرآن و حدیث میں بہت سے فضائل وارد ہیں۔
اور اگر یہ صورت ہو کہ خودکش حملہ کرنے والے کا ارادہ بم، با رود و غیرہ کو اپنے سے علیحدہ کرنے کا نہ ہو، بلکہ پہلے اس کے ذریعے سے اپنے آپ کو شہید کرنے ،اور پھر اس کے ذریعہ دشمن کے آدمیوں کو مارنے، یا ان کی تنصیبات کو اڑانے کا مقصد ہو تو اس صورت کا واضح اور صریح حکم فقہی عبارات وغیرہ میں نہیں ملا، لہٰذا اس میں احتیاط کی ضرورت ہے۔
کمافي الدر المختار: (و) لا يمنع (ما على ظفر صباغ و) لا (طعام بين أسنانه) أو في سنه المجوف به يفتى. (1/154)
وفي ردالمحتار: تحت (قوله: به يفتى) صرح به في الخلاصة وقال: لأن الماء شيء لطيف يصل تحته غالبا اهـ (1/154)
وفي البحر الرائق: ولو كان سنه مجوفا أو بين أسنانه طعام أو درن رطب يجزيه؛ لأن الماء لطيف يصل إلى كل موضع غالبا كذا في التجنيس اھ (1/42)
وکما قال الله تعالىٰ: {إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ۔ الآیة} [التوبة: 111]
وفي فتح الباري بشرح البخاري: وأما مسألة حمل الواحد على العدد الكثير من العدو فصرح الجمهور بأنه إن كان لفرط شجاعته وظنه أنه يرهب العدو بذلك، أو يجرئ المسلمين عليهم أو نحو ذلك من المقاصد الصحيحة، فهو حسن، ومتى كان مجرد تهور فممنوع، ولا سيما إن ترتب على ذلك وهن في المسلمين، والله أعلم. (9/235)
وفي احكام القرآن لابن العربي: ]مسألة تفسير التهلكة في قوله تعالى ولا تلقوا بأيديكم[ المسألة الثالثة: في تفسير التهلكة: فيه ستة أقوال: (إلى قوله) الرابع: لا تدخلوا على العساكر التي لا طاقة لكم بها. (إلى قوله) قال الطبري: هو عام في جميعها لا تناقض فيه، وقد أصاب إلا في اقتحام العساكر، فإن العلماء اختلفوا في ذلك، (إلى قوله) والصحيح عندي جوازه؛ لأن فيه أربعة أوجه: الأول: طلب الشهادة. الثاني: وجود النكاية. الثالث: تجرية المسلمين عليهم. الرابع: ضعف نفوسهم۔ اھ (1/166)
وأيضاً هذه المسئلة مذكورة في الشامية:(4/127)، وفي التاتارخانية:(5/257)، وفي الهندية:(5/353)
علماءِ دیوبند کی طرف ،اللہ تعالی سے متعلق عقیدۂ کذب کی نسبت کی وضاحت اور حقیقت
یونیکوڈ دینی جماعتیں 0تبلیغی جماعت کا صرف ایک معروف طریقے پر کام کرنا ۲۔مصنوعی دانت لگانے سے وضو کا حکم ۳۔خودکش حملہ کا حکم
یونیکوڈ دینی جماعتیں 0مروجہ تبلیغی جماعت کا حکم ۲۔بغیر وضو کے قرآنِ کریم چھونا ۳۔عصر کے بعد سجدۂ تلاوت کا حکم
یونیکوڈ دینی جماعتیں 0