السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ مروجہ اولیاء اللہ کے مزارات/درباروں کے احاطے میں فرض نماز یا نماز جنازہ پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
مزارات کے احاطے میں نماز پڑھتے وقت اولیاء اللہ کی قبور یا کوئی اور قبر اس طرح بلاحائل سامنے نہ ہو کہ جس سے قبر بالکل سامنےآئے، تو ایسی صورت میں نماز یا نماز جنازہ کا پڑھنا جائز اوردرست ہے۔
ففي رد المحتار: أو كان في المقبرة موضع أعد للصلاة ولا قبر ولا نجاسة فلا بأس كما في الخانية. اهـ. وتقدم تمام هذا في بحث الأوقات المكروهة. وفي القهستاني: لا تكره الصلاة في جهة قبر إلا إذا كان بين يديه؛ بحيث لو صلى صلاة الخاشعين وقع بصره عليه كما في جنائز المضمرات اھ (15/1)