السلام علیکم
میرا سوال یہ ہے کہ میں پراویڈنٹ فنڈ سے کچھ لون لینا چاہتا ہوں اگر میں ایک لاکھ لیتا ہوں تو مجھ کو اس پر 4 سال میں 30,000 اوپر دینے پڑتے ہیں، میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ پراویڈنٹ فنڈ پر لون لینا حلال ہے یا حرام؟
ملازم کو اس کے ذاتی پراویڈنٹ فنڈ میں سے جو رقم بنام قرض دی جاتی ہے وہ شرعا قرض نہیں، بلکہ اس کا جو قرض محکمہ کے ذمہ تھا، وہ وصول کرتا ہے اور اگلی تنخواہوں سے جو رقم محکمہ یہ کہہ کر کاٹتا ہے کہ دیا ہوا قرض اور اس کا سود وصول کیا جا رہا ہے چونکہ شرعاً نہ یہ اداءِ قرض ہے نہ سود، اس لیے پراویڈنٹ فنڈ سے سائل کا قرض لینا جائز ہے۔ (مأخوذ از رسالہ پراویڈنٹ فنڈ مع اضافہ )
پراویڈنٹ فنڈ اختیاری سے حاصل شدہ اضافی رقم کو کن مدات میں استعمال کیا جاسکتاہے؟
یونیکوڈ پراویڈنٹ فنڈ 0