کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قبر پکی کرنا تو جائز نہیں، مگر قبر کے سر کی جانب ماربل کا کتبہ جس پہ نام وغیرہ لکھا ہو تا ہےکہ قبر کی پہچان رہے، ایسا کتبہ لگانے کی اجازت ہے؟
بوقتِ ضرورت قبر کی پہچان کے لیے ایسا کتبہ جس پر مرحوم کا نام درج ہو لگانا جائز ہے۔
ففی الدر المختار: وفي جنائزها: لا بأس بالكتابة إن احتيج إليها حتى لا يذهب الأثر اھ(2/ 237)
وفی حاشية ابن عابدين: تحت قوله(قوله لا بأس بالكتابة إلخ) وهو عمل أخذ به الخلف عن السلف اهـ ويتقوى بما أخرجه أبو داود بإسناد جيد «أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - حمل حجرا فوضعها عند رأس عثمان بن مظعون وقال: أتعلم بها قبر أخي وأدفن إليه من تاب من أهلي» فإن الكتابة طريق إلى تعرف القبر بها اھ(2/ 238) والله أعلم بالصواب!