السلام علیکم!
مفتی صاحب میرا حج کے بارے میں ایک سوال ہے ،برائے مہربانی 25/12/2011 سے پہلے مجھے اسکا جواب دیجیے، طوافِ زیارت کے بعد میں نے سعی،ادا نہیں کی برائے مہربانی مجھے یہ بتلادیں کہ سعی بھی ایک فرض رکن ہے یا نہیں؟ اس کادرجہ کیا ہے یعنی واجب یا سنت یا مستحب ؟
حج میں سعی کرنا واجب ہے اور عذر کے بغیر ترک کرنے سے دم لازم ہوتا ہے، تاہم اگر سائل نے حج کے دوران کسی طواف کے بعد سعی کی ہو تو طواف زیارت کے بعد اس پر سعی لازم نہیں تھی اور اس کا حج درست ادا ہو چکا ہے۔
کما فی الرد تحت : (قوله بلا عذر) قيد للترك والركوب. قال فی الفتح عن البدائع، وهذا حكم ترك الواجب فی هذا الباب اهـ أي أنه إن تركه بلا عذر لزمه دم، وإن بعذر فلا شيء عليه مطلقا اھ (2/553)۔
و فی الخانیة : و السعی بین الصفا و المروۃ عندنا واجب و لیس برکن حتٰی لو ترکہ یکون الدم مقامہ اھ (2/450)۔