بندہ کو رات میں نیند میں احتلام ہوگیا صبح بندہ کو نہ تری محسوس ہوئی نہ احتلام کا ہونا یاد تھا، گویا کہ احتلام ہوا ہی نہیں، پھر بندہ نے جمعہ کی نماز انہیں کپڑوں میں ادا کی، بعد میں جب بندہ نے دیکھا تو منی کے نشانات تھے یعنی نماز کے بعد، اب یہ بتائیں کہ بندہ کی نماز ادا ہوگئی یا واجب الاداء ہے؟
احتلام ہوجانے کے بعد غلط فہمی سے جتنی نمازیں جنابت کی حالت میں پڑھی ہیں، وہ نمازیں ادا نہیں ہوئی ہیں، سائل پر لازم ہے کہ ان نمازوں کا اعادہ کرے ۔
ففی الخانیة: إذا استیقظ الرجل ووجد علی فراشه أو فخذه بللا وهو یتذكر احتلاما إن تیقن أنه منی(إلی قوله)فعلیه الغسل اھ(1/158)
وفی الدر المختار:(وإن لم یتذكر الاحتلام)إلا إذا اعلم أنه مذی أو شك أنه مذی أو ودی اھ
وفی رد المحتار:(قوله وإن لم یتذكر الاحتلام)من الحلم بالضم والسكون اسم لما یراه النائم ثم غلب علی ما یراه من الجماع (إلی قوله) إن لم یتذكر الاحتلام یجب الغسل، ویفهم وجوبه إذا تذكرأولی، وقیل للعطف علی مقدر: أی إن تذكروا ان لم یتذكر اھ(1/163)
دورانِ نماز قرأت میں کوئی ایسی غلطی سرزد ہوجائے جس سے معنی بالکل بگڑ جائے تو نماز فاسد ہوجائے گی؟
یونیکوڈ مفسدات نماز 0