سر میں ایک تنخواہ دار آدمی ہوں،میری کوئی املاک (جائیداد ) نہیں ہے ،اور نہ کوئی بینک بیلنس ہے، جو کچھ تنخواہ کے ذریعے کماتا ہوں، وہ مہینے میں گھریلو اخراجات میں خرچ ہو جاتے ہیں، میری بیوی کے پاس زیورات ہے اور وہ زکوٰۃ بھی ادا کرتی ہے، اس کے پاس کوئی آمدنی کا ذریعہ نہیں ہے، کیونکہ وہ ایک گھریلو خاتون ہے، اس پر حسب شرع قربانی واجب ہے۔ مجھے اس عید میں کمپنی کی طرف سے بطور بونس تنخواہ کے علاوہ تقریباً تین ہزار روپے ملے ہیں، اور مجھے ڈیڑھ لاکھ روپے دوسرے لوگوں کو قرض ادا کرنا ہے۔
(۱) :کیا میں قربانی کرنے کیامستحق ہوں؟اور کیا میں بیوی کو قربانی کے لیے پیسے دے سکتا ہوں ؟ اس کے پاس کوئی آمدنی کا ذریعہ نہیں ہے۔
صورت مسئولہ میں سائل پر قربانی کرنا واجب نہیں، جبکہ سائل کا اپنی بیوی کو بھی قربانی کرنے کے لیے پیسے دینا لازم نہیں ہے، البتہ اگر اپنی مرضی اور خوشی سے دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔
ففي بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: ولو كان عليه دين بحيث لو صرف إليه بعض نصابه لا ينقص نصابه لا تجب لأن الدين يمنع وجوب الزكاة فلأن يمنع وجوب الأضحية أولى؛ لأن الزكاة فرض والأضحية واجبة والفرض فوق الواجب. (5/ 64)۔
و في الفتاوى الهندية: ولو كان عليه دين بحيث لو صرف فيه نقص نصابه لا تجب اھ (5/ 292)۔
وفیھا أیضا: وليس على الرجل أن يضحي عن أولاده الكبار وامرأته إلا بإذنه اھ (5/ 293)واللہ اعلم بالصواب