تدفین

روڈ کی توسیع کی وجہ سے قبریں منتقل کرنا

فتوی نمبر :
22702
| تاریخ :
2020-10-26
عبادات / جنائز / تدفین

روڈ کی توسیع کی وجہ سے قبریں منتقل کرنا

کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام و مفتیان ِعظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارا قبرستان شاہراہ ریشم کے کنارے واقع ہے، اس قبرستان میں میری والدہ اور میرے بھتیجے کی قبر ہے، اب روڈ کی توسیع کا کام جاری ہے اور قبروں کے مسمار ہونے کا خدشہ ہے ( قبریں بارہ پندرہ سال پرانی ہیں)، اب ہم لوگ یہ قبریں شفٹ کرنا چاہتے ہے، جبکہ تابوت بھی استعمال نہیں کیا گیا ،آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ ہم ان قبروں کو کیسے منتقل کریں ؟
۲۔ کیا ہمیں ایسا کرنا چاہیے، جبکہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ قبروں کی کسی صورت بےحرمتی نہ ہو ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

قبریں پرانی ہونے کی وجہ سے اگر اس میں مدفون میتیں بوسیدہ ہوں تو روڈ کی توسیع کی وجہ سے ان قبروں کو مسمار کرنے کی بھی گنجائش ہے، تاہم روڈ کسی دوسری متبادل جگہ گزارنا ممکن ہو تو اسی طرح کرنا چاہیے ۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي البحر الرائق: وفي التبيين ولو بلي الميت وصار ترابا جاز دفن غيره في قبره وزرعه والبناء عليه اه(2/ 210)
وفی حاشية ابن عابدين: وقال الزيلعي: ولو بلي الميت وصار ترابا جاز دفن غيره في قبره وزرعه والبناء عليه اه (2/ 233)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اسرار محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 22702کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات