تدفین

قبر اگر قبلہ رخ نہ ہو تو کیا قبر دوبارہ بنائی جائے ؟

فتوی نمبر :
20446
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / جنائز / تدفین

قبر اگر قبلہ رخ نہ ہو تو کیا قبر دوبارہ بنائی جائے ؟

قبر بناتے وقت اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ میت کا دایاں پہلو قبلہ رخ ہو، اگر قبر کی سمت ٹھیک نہ ہو، مثلاً دایاں رخ مکمل قبلہ رخ کے بجائے تھوڑا ادھر ادھر ہو ، تو کس حد تک گنجائش ہے؟ مثلاً ۱۰ ڈگری ، ۲۰ ڈگری یا اس سے زیادہ زاویہ غلط ہو تو کیا قبر شہید کر کے دوبارہ بنائی جائے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر قبر اس قدر ٹیڑھی بنائی گئی کہ اس میں مردے کو قبلہ رخ لٹانے کے باوجود بھی اس کا رخ قبلہ کی طرف نہ ہوتا ہو تو اس صورت میں اگر قبر کو درست کرنا ممکن ہویا دوسری قبر دستیاب ہو تو اس کے مطا بق عمل کیا جائے، ورنہ بامر ِمجبوری اسی طرح دفن کرنے میں بھی حرج نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الفتاوى الهندية: ويدخل الميت مما يلي القبلة وذلك أن يوضع في جانب القبلة من القبر ويحمل الميت منه ويوضع في اللحد، فيكون الآخذ له مستقبل القبلة حالة الأخذ، كذا في فتح القدير، ويقول واضعه: بسم الله وعلى ملة رسول الله، كذا في المتون.ويوضع في القبر على جنبه الأيمن مستقبل القبلة، كذا في الخلاصة (إلى قوله) ولو وضع الميت لغير القبلة أو على شقه الأيسر أو جعل رأسه موضع رجليه وأهيل عليه التراب لم ينبش اھ (1/ 166)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 20446کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات