پرائز بانڈ کا حکم شرعی کیا ہے؟
اگر ان بانڈز سے عام پرائز بانڈ ز مراد ہیں تو یہ ایک سودی اور قمار پر مشتمل معاملہ ہے جو شرعا نا جائز اور حرام ہے، اس لئے اس پالیسی میں شمولیت اور اس کا انعام وصول کرنا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
قال الله تعالى : {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ } [المائدة: 90]
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص اھ (6/ 403)
و في الهداية شرح البداية: لأن الربا هو الفضل المستحق لأحد المتعاقدين في المعاوضة الخالي عن عوض شرط فيه اھ (3/ 61) و الله تعالى اعلم بالصواب
انعامی بانڈ (پرائز بانڈز) کی اسکیم کے تحت ملنے والے انعام کو اپنی ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ پرائز بانڈ 0