احکام نماز

سیٹھ کے کہنے پر جماعت کی نماز چھوڑنا

فتوی نمبر :
15111
| تاریخ :
2012-05-07
عبادات / نماز / احکام نماز

سیٹھ کے کہنے پر جماعت کی نماز چھوڑنا

کیا کبھی کبھار کام کی وجہ سے باس یا مالک کے کہنے پر جماعت کی نماز چھوڑ دینا جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بلاوجہ محض ’’باس‘‘ یا کسی اور شخص کے کہنے پر نماز کی جماعت چھوڑ دینا جائز نہیں الّا یہ کہ کوئی ایسا عذر ہو جس کی وجہ سے جماعت کا ترک جائز ہو ۔

مأخَذُ الفَتوی

فی حاشية ابن عابدين : (قوله و ليس للخاص أن يعمل لغيره) بل و لا أن يصلي النافلة . قال في التتارخانية : و في فتاوى الفضلي و إذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة و لا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة و في فتاوى سمرقند : و قد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا . و اتفقوا أنه لا يؤدي نفلا و عليه الفتوى اھ(6/ 70)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد علی طیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 15111کی تصدیق کریں
0     476
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات