کیا کبھی کبھار کام کی وجہ سے باس یا مالک کے کہنے پر جماعت کی نماز چھوڑ دینا جائز ہے؟
بلاوجہ محض ’’باس‘‘ یا کسی اور شخص کے کہنے پر نماز کی جماعت چھوڑ دینا جائز نہیں الّا یہ کہ کوئی ایسا عذر ہو جس کی وجہ سے جماعت کا ترک جائز ہو ۔
فی حاشية ابن عابدين : (قوله و ليس للخاص أن يعمل لغيره) بل و لا أن يصلي النافلة . قال في التتارخانية : و في فتاوى الفضلي و إذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة و لا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة و في فتاوى سمرقند : و قد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا . و اتفقوا أنه لا يؤدي نفلا و عليه الفتوى اھ(6/ 70)