گیارہ ذوالحجہ کو چھوٹے اور درمیانی شیطان کی رمی، کی مگربڑے شیطان کی نہیں کی ،اب میرے لیے شرعاً کیا حکم ہے؟
گیارہویں ذو الحجہ کو جمرہ عقبیٰ کی رمی ترک کرنے کی صورت میں صدقہ واجب ہوتا ہے ،جو کہ نصف صاع یا اس کی قیمت کسی مستحق فقیر کو دےدینے سے یہ واجب ذمہ سے ساقط ہوجائے گا ۔
کما فی بدائع الصنائع : والأصل أن ما يجب في جميعه دم يجب في أقله صدقة لما نذكر إن شاء الله تعالى، (الی قوله) وإن ترك الأكثر منها فعليه دم في قول أبي حنيفة؛ لأن في جميعه دم عنده فكذا في أكثره، وعند أبي يوسف، ومحمد لا يجب في جميعه دم فكذا في أكثره، فإن ترك رمي أحد الجمار الثلاث من اليوم الثاني فعليه صدقة؛ لأنه ترك أقل، وظيفة اليوم، اھ (2/139)۔