میں کام کے سلسلہ میں ریاض سے جدہ منتقل ہو گیا ہوں، میں بائی روڈ جدہ آیا ۔ سب سے پہلے میں نے عمرہ ادا کیا پھر میں جدہ گیا ۔ اب میں جدہ میں رہائش پذیر ہوں ،کیا یہ ممکن ہے کہ میں صرف طواف کے لیے مکہ مکرمہ جاؤں یا عمرہ بھی ضروری ہوگا کیونکہ میں مستقل جدہ میں رہائش پذیر ہوں؟
جی ہاں ! صرف طواف کے لیے بھی مکہ مکرمہ جا سکتے ہیں کیونکہ یہ ایک مستقل عبادت ہے اور ہر بار عمرہ ضروری نہیں ۔ البتہ آسانی ہو تو عمرہ بھی کر سکتا ہے۔
کما فی المشکوٰۃ : عن عبید بن عمیر ان ابن عمر كان يزاحم على الركنين (الى قوله) فانی سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يقول (إلى قوله) وسمعته يقول من طاف بهذا البيت اسبوعاً فاحصاه كان تعتق رقبة وسمعته يقول لا يضع قدماً ولا يرفع اخرى الاحط الله عنه بها خطيئة وكتب له بها حسنة رواه الترمذى (227)۔
وفی غنية الناسك : وأما ميقات أهل الحل وهم اہل داخل المواقيت إلى الحرم (وإلى قوله ) فالحل للحج والعمرة ( الى قوله) و حل لهم دخول مكة بلا إحرام مالم یردوانسکا اھ (55)۔